اسلام آباد : مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی وجہ سے ترقی یافتہ ممالک میں کسی حد تک ملازمتیں ختم ہونے کا بھی اندیشہ موجود ہے لیکن کیا پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک میں بھی ایسا ہی ہے؟
ورلڈ اکنامک فورم کے مطابق مصنوعی ذہانت کی وجہ سے صرف ترقی یافتہ معیشتوں میں 60 فیصد ملازمتیں متاثر ہوں گی، ان میں سے آدھی ملازمتیں منفی انداز میں متاثر ہوں گی جبکہ نصف پر مثبت اثر پڑے گا۔
اس حوالے سے اے آر وائی نیوز کے پروگرام آن مائی راڈار میں جاز ورلڈ کے سی ای او عامر ابراہیم نے خصوصی گفتگو کی اور اے آئی کے مستقبل سے متعلق ناظرین سے اہم باتیں شیئر کیں۔
انہوں نے کہا کہ اے آئی براہِ راست لوگوں کی ملازمتیں ختم نہیں کرے گی، تاہم وہ افراد جو اے آئی کو مؤثر انداز میں اور مہارت کے ساتھ استعمال کرنا جانتے ہیں، ان لوگوں کی جگہ لے سکتے ہیں جو اس ٹیکنالوجی سے ناواقف ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ تبدیلی صرف انفرادی سطح تک محدود نہیں رہے گی بلکہ کمپنیوں اور ممالک کے درمیان بھی مسابقت کا باعث بنے گی جو معاشرے اور ادارے اے آئی کو بروقت اپنانے میں ناکام رہیں گے وہ ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے چلے جائیں گے۔
ایک سوال کے جواب میں عامر ابراہیم نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت کو صرف سوال و جواب تک محدود سمجھنا غلط ہے۔ جدید “ایجنٹک اے آئی” سسٹمز نہ صرف معلومات فراہم کرتے ہیں بلکہ مختلف کام خودکار طریقے سے انجام دینے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
مثال کے طور پر ایک اے آئی ایجنٹ صارف کی پسند کو مدنظر رکھتے ہوئے ریستوران تجویز کر سکتا ہے، میز کی بکنگ کرا سکتا ہے اور دیگر انتظامات بھی مکمل کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عین ممکن ہے کہ مستقبل میں کاروباری ادارے متعدد انتظامی اور ذہنی نوعیت کے کام اے آئی کے سپرد کرسکیں گے جس سے پیداواری صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
ریستوران، کسٹمر سروس، ڈیٹا تجزیے اور کاروباری منصوبہ بندی جیسے شعبوں میں اے آئی انسانی وقت اور وسائل کی بچت کا باعث بنے گی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت کے نتیجے میں بعض روایتی ملازمتوں کی نوعیت تبدیل ہوسکتی ہے، تاہم بڑی تعداد میں نئی مہارتیں اور مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ اس لیے کارکنوں اور طلبہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اے آئی ٹولز اور جدید ڈیجیٹل مہارتوں سے خود کو آراستہ کریں تاکہ مستقبل کی افرادی قوت کا مؤثر حصہ بن سکیں۔



