ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما خواجہ اظہار الحسن کا کہنا ہے کہ پارٹی چیئرمین شپ کے جب بھی الیکشن ہوں گے میں بھی کاغذات جمع کرواؤں گا۔
الیونتھ آور میں گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم رہنما خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ پارٹی چیئرمین شپ کا الیکشن لڑوں گا سب کی خواہش ہے تو ہماری بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی الیکشن ہوں گے تو پوسٹ سے متعلق اپنی پارٹی میں مشاورت کروں گا۔
خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ پورے ملک میں جماعتی الیکشن صحیح معنوں میں ایم کیو ایم میں ہوں گے، خالد مقبول صدیقی سے بات ہوتی رہتی ہے جب ضرورت ہوگی تب پارٹی الیکشن ہوں گے۔
ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ یہ پارٹی کی خواہش نہیں ہوتی ہر جماعت کو الیکشن کرانے پڑتے ہیں۔
میزبان وسیم بادامی نے ان سے سوال کیا کہ آپ پارٹی الیکشن میں خالد مقبول صدیقی کو ووٹ دیں گے یا مصطفیٰ کمال کو؟ جواب میں خواجہ اظہار نے کہا کہ ہم ابھی کہاں کسی عہدے سے دستبردار ہوئے ہیں جو دوسرے کو ووٹ دیں گے۔
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو رمضان کے بعد سے کافی پریشان اور غصے میں بھی ہیں، سندھ میں 18 سال کی پی پی حکومت کو بہت آڑے ہاتھوں لیا جارہا ہے، ورلڈ بینک نے منصوبوں پر اعتراض اٹھایا اور سخت احتساب کا کہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلاول سندھ حکومت میں گروپ بندی اور رسہ کشی سے بھی پریشان ہیں، جی بی میں علیم خان نے 4 گیندوں پر 4 چوکے مارے ہیں جس پر پی پی کو اکثریت نہیں ملی۔



