استنبول : ترکی میں حالیہ برسوں میں زمین دھنسنے کے واقعات نے سب کو خوفزدہ کردیا، خوفناک اور پراسرار گڑھے اچانک نمودار ہوجاتے ہیں، جسے سنک ہولز کا نام دیا گیا ہے، کیا یہ خلائی مخلوق کا کام ہے؟
ہوا کچھ یوں کہ ایک کسان صبح سویرے اپنے کھیت کی طرف نکلا، سورج ابھی پوری طرح نکلا بھی نہ تھا کہ اس کی نظر زمین پر پڑنے والے ایک بڑٖے اور خوفناک قسم کے گڑھے پر پڑی جو کل تک وہاں نہیں تھا۔
وہ چونک اٹھا ابھی وہ حیرت سے اسے دیکھ ہی رہا تھا کہ چند قدم آگے ایک اور گڑھا پھر ایک اور گڑھا نظر آتا گیا۔
لیکن یہ کوئی فلمی منظر نہیں، اور نہ ہی کوئی خلائی مخلوق زمین پر اتری ہے، بلکہ یہ عمل کونیا بیسن کے علاقے میں روزمرہ کا معمول بنتا جا رہا ہے، جہاں 2ہزار کی دہائی سے اب تک سینکڑوں سنک ہولز (زمین میں اچانک بننے والے پراسرار گڑھے) ظاہر ہوچکے ہیں۔
یہ پراسرار گڑھے خاموشی سے کھیتوں کو نگل رہے ہیں۔ کبھی کبھار یہ آبادیوں کے قریب تک پہنچ جاتے ہیں، انہیں دیکھ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے زمین خود کسی انجانی طاقت کے زیر اثر دھنستی جارہی ہو، یہ گڑھا کب اور کہاں بن جائے، کوئی نہیں جانتا، اس صورتحال میں مقامی لوگوں میں شدید خوف و ہراس پھیل رہا ہے۔
اصل وجہ کیا ہے؟
اگرچہ یہ منظر کسی سائنس فکشن کہانی جیسا لگتا ہے مگر حقیقت اس سے بھی زیادہ سنجیدہ ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی دو بڑی وجوہات ہیں
پہلی وجہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید خشک سالی اور دوسری وجہ کھیتوں کو بچانے کے لیے زیر زمین پانی کا حد سے زیادہ استعمال کرنا۔
کسان پانی حاصل کرنے کے لیے ہزاروں غیر قانونی کنویں کھود چکے ہیں، مگر اس سے مسئلہ حل ہونے کے بجائے مزید بگڑ گیا ہے۔
کیونکہ جب زیر زمین پانی تیزی سے ختم ہونے لگتا ہے تو نیچے کی مٹی کمزور ہوجاتی ہے اور پھر ایک دن اچانک اوپر کی زمین دھڑام سے بیٹھ جاتی ہے اور ایک نیا گڑھا جنم لے لیتا ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ اگر کسان ڈرِپ ایریگیشن (قطرہ قطرہ آبپاشی) جیسے جدید طریقے اپنائیں تو پانی کا ضیاع کم ہو سکتا ہے اور زیر زمین پانی کو دوبارہ بھرنے کا موقع مل سکتا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ اقدامات بروقت کیے جائیں گے یا زمین اسی طرح خاموشی سے بیٹھتی رہے گی؟



