spot_img

ذات صلة

جمع

دبئی پولیس کی بڑی کارروائی : عالمی نیٹ ورک کے 276 ملزمان گرفتار

دبئی پولیس نے امریکی اور چینی اہلکاروں کے ساتھ...

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ

ویانا (30 اپریل 2026): امریکا اور ایران کی حالیہ...

ایران کو شکست تسلیم کرنا ہوگی، صدر ٹرمپ

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے...

کیا پیٹرول کی قیمتیں آدھی ہوجائیں گی؟

امریکا اور ایران کی دو مہینے سے جاری اس...

ہندوتوا کا عروج سیکولر بھارت کے تابوت میں آخری کیل

بابری مسجد کا انہدام 6 دسمبر 1992ء کو بھارتی شہر ایودھیا میں ہوا جو ہندوستانی تاریخ کا ایک انتہائی گھناؤنا باب ہے ، جس کے بعد سے بھارت میں مذہبی ہم آہنگی کا مستقبل سوالیہ نشان بن گیا۔،

مسجد کی شہادت کے عین موقع پر وہاں ڈیوٹی پر موجود قانون کے رکھوالے ہندو انتہا پسندوں کے سامنے نہ صرف بے بس تماشائی بنے رہے بلکہ خاموشی سے ان کے جرم میں برابر کے شریک بھی رہے۔

یہ عظیم الشان مسجد سولہویں صدی (1528ء) میں مغل بادشاہ بابر کے دور میں تعمیر کی گئی تھی۔
یہ صرف ایک مسجد کی شہادت نہیں تھی بلکہ یہ ہندوستان میں سیکولر ازم کے تابوت میں آخری کیل بھی تھی۔

یہ واقعہ بھارت میں کھلی بدمعاشی اور ننگی دہشت گردی کا محض ایک آغاز تھا جس کے بعد نفرت کا جن بوتل سے اس طرح باہر نکلا کہ آج تک واپس اندر نہیں جا سکا۔

بھارت میں حالیہ برسوں کے دوران ہندوتوا نظریے، مذہبی ہم آہنگی اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق بحث ایک بار پھر شدت اختیار کرگئی ہے، خاص طور پر بابری مسجد کے انہدام کے افسوسناک تاریخی واقعے کے بعد کے حالات کے تناظر میں اس نظریے کو زیادہ تقویت ملی۔

اس واقعے کے بعد ملک بھر میں فرقہ وارانہ کشیدگی اور فسادات پھوٹ پڑے، اس کو بھارت کی جدید تاریخ کے اہم اور متنازعہ واقعات میں شمار کیا جاتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس کے بعد مختلف ادوار میں ہونے والے واقعات، جن میں گجرات فسادات بھی شامل ہیں، نے مذہبی ہم آہنگی اور ریاستی پالیسیوں پر سوالات کو جنم دیا۔

سیاسی منظرنامے میں نریندرا مودی کے دورِ حکومت میں قوم پرستی اور ہندوتوا سے متعلق پالیسیوں پر بحث مزید نمایاں ہوئی ہے۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کے حقوق اور تحفظ کے حوالے سے خدشات موجود ہیں، بعض بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس میں بھی بھارت میں جمہوریت، مذہبی آزادی اور اظہارِ رائے کی صورتحال پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔

سال 2024میں بابری مسجد کی متنازعہ جگہ پر رام مندر کے افتتاح کے بعد یہ بحث مزید تیز ہوگئی ہے کہ بھارت کا سیکولر تشخص کس حد تک برقرار ہے؟۔

India Extremism

ہندوتوا کیا ہے اس کا آغاز کیسے ہوا ؟

سب سے پہلے یہ غلط فہمی دور کرلیں کہ ہندو مذہب اور ہندوتوا ایک ہی چیز ہیں، کیونکہ ہندو مذہب ایک قدیم اور برداشت رکھنے والا مذہب ہے جبکہ ہندوتوا ایک جدید اور انتہا پسند سیاسی نظریہ ہے جو 20ویں صدی میں سامنے آیا۔

ہندوتوا کا بانی کون تھا؟

یہ نظریہ سب سے پہلے ونائک دامودر ساورکار نے پیش کیا، جو ایک متنازع شہری تھا۔
اس نے 1923 میں اپنی کتاب Hindutva: Who is a Hindu? میں لکھا کہ ہندوستان ہندوؤں کا ملک ہے اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو ہندو ثقافت اپنانا ہوگی یا پھر ہندوؤں کے ماتحت رہنا ہوگا ورنہ ان کے لیے یہاں کوئی جگہ نہیں۔

آر ایس ایس کا قیام اور کردار

سال 1925میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کا قیام عمل میں آیا، جس کا بانی کیشو بلرام تھا، اس تنظیم کا مقصد نوجوان ہندوؤں کو نظریاتی اور جسمانی تربیت دینا اور انہیں ہندو ریاست کے قیام کے لیے تیار کرنا تھا۔

یہ تنظیم آہستہ آہستہ ایک مضبوط نیٹ ورک میں تبدیل ہوگئی جس نے معاشرے اور سیاست دونوں میں اثر و رسوخ بڑھایا۔ بعد ازاں 1951میں آر ایس ایس سے وابستہ افراد نے بھارتیہ جن سنگھ کے نام سے ایک سیاسی جماعت قائم کی، جس کے بانی سیاما پرساد مکھرجی تھے۔

اس جماعت نے ہندو ریاست کے قیام، یکساں سول قانون، گائے کے تحفظ جیسے نعروں کو فروغ دیا۔
بعد میں یہی نظریاتی بنیاد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی شکل میں سامنے آئی، جو آج بھارت کی ایک بڑی سیاسی جماعت ہے۔

اگر اس بات کو مضختصر اوقر جامع الفاظ میں بیان کیا جائے تو ہندوتوا ایک سیاسی نظریہ ہے جو 20ویں صدی میں سامنے آیا اور اس کا بنیادی مقصد ہندوستان کو ایک ہندو ریاست کے طور پر دیکھنا ہے۔

spot_imgspot_img