spot_img

ذات صلة

جمع

پٹرول کی قیمت میں کمی سے کیا مہنگائی بھی کم ہوگی؟ ماہرین کی اہم پیشگوئی

کراچی : پٹرول کی قیمت میں کمی بیشی کا براہ راست اثر ملکی معیشت اور عوام کی قوتِ خرید پر پڑتا ہے، مہنگائی، شرح سود اور معاشی نمو بھی ان ہی عوامل سے جڑی ہوتی ہے۔

اے آر وائی نیوز کی بجٹ ٹرانسمیشن میں معاشی ماہرین نے بتایا کہ ملک میں مہنگائی اور معاشی ترقی کا دارومدار صرف حکومتی پالیسیوں پر نہیں بلکہ متعدد بیرونی عوامل پر بھی ہے۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ایگزیٹو ڈائریکٹر ایس ڈی پی آئی عابد سلہری نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمت میں اضافہ ہوا، جس سے مہنگائی کا دباؤ بڑھا تاہم اگر خطے میں حالات معمول پر آتے ہیں تو تیل کی قیمتوں میں کمی آسکتی ہے، جس کے نتیجے میں مہنگائی میں بھی کمی متوقع ہے۔

  شرح سود میں اضافہ ہوسکتا ہے

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پٹرول کی قیمت کے باعث مہنگائی میں دوبارہ اضافہ ہوا تو مرکزی بینک شرح سود بڑھانے پر مجبور ہوسکتا ہے، جس سے کاروباری سرگرمیوں اور معاشی ماحول پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کاروبار دوست اور معاشی ترقی کے فروغ کی پالیسیوں کو سراہا جانا چاہیے، تاہم معیشت کو اس وقت دو بڑے بیرونی چیلنجز درپیش ہیں۔ ان میں پہلا مون سون بارشوں کی شدت اور دوسرا عالمی تجارتی راستوں پر بڑھنے والے اخراجات ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں عابد سلہری کا کہنا تھا کہ 2025 کے سیلاب نے کپاس کی پیداوار کو شدید متاثر کیا تھا، جس کے باعث برآمدات پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے، رواں سال بھی معمول سے زیادہ بارشوں کی پیش گوئی کی جا رہی ہے، جس سے خریف کی فصلوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات بہتر بھی ہوجائیں تب بھی شپنگ اور انشورنس اخراجات کو معمول پر آنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں، کیونکہ گزشتہ چند ماہ کے دوران انشورنس ریٹس میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ایف بی آر اصلاحات

تجزیہ نگار نے وفاقی وزیر خزانہ کی جانب سے پیش کیے گئے ایف بی آر کے نئے ٹیکس آپریٹنگ ماڈل کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد ٹیکس دہندگان اور ٹیکس حکام کے درمیان براہ راست رابطے کو ختم کرنا ہے۔

نئے نظام کے تحت ’’نیشنل فیس لیس سینٹر‘‘ قائم کیا جائے گا جہاں آڈٹ، اسیسمنٹ اور کوالٹی کنٹرول جیسے اختیارات الگ الگ اداروں کے سپرد ہوں گے۔

اس نظام میں ٹیکس دہندگان اور ٹیکس افسران کے درمیان کوئی براہ راست رابطہ نہیں ہوگا اور تمام کارروائی آن لائن پورٹل کے ذریعے انجام دی جائے گی۔

ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ٹیکس دہندگان کو درپیش ہراسانی اور غیرضروری دباؤ میں کمی آسکتی ہے، تاہم اس کے عملی نتائج کا اندازہ نظام کے نفاذ کے بعد ہی ہوگا۔

ٹیکس نیٹ میں توسیع ناگزیر

اقتصادی ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں صرف 35 سے 40 لاکھ افراد باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرتے ہیں جبکہ کروڑوں ایسے افراد موجود ہیں جنہیں ٹیکس نظام کا حصہ ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت، ریٹیل اور رئیل اسٹیٹ جیسے شعبوں کو مؤثر انداز میں ٹیکس نیٹ میں لانا ضروری ہے۔ البتہ زراعت کے شعبے کو دستاویزی شکل دینا ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ وہاں آمدن اور پیداوار کا درست تعین مشکل ہوتا ہے۔

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

spot_imgspot_img