دنیا بھر میں نوجوان تیزی سے کرپٹو کرنسی اور آن لائن ٹریڈنگ کی جانب راغب ہو رہے ہیں، تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ معلومات کے بغیر سرمایہ کاری کرنا بڑے مالی نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔
کرپٹو مارکیٹ میں دھوکہ دہی کیسے کی جاتی ہے؟ اس حوالے سے اے آر وائی پوڈ کاسٹ میں بلاک ایپکس کے سی ای او معظم عارف نے ناظرین کو تفصیلات سے آگاہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ اس شعبے میں سب سے زیادہ نشانے پر نوجوان ہیں جن کو راتوں رات امیر بنانے کے خواب دکھائے جاتے ہیں، تیزی سے مقبول ہوتی کرپٹو کرنسی کی دنیا میں رقم ڈوبنے کے خطرات بھی اتنے ہی زیادہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کرپٹو مارکیٹ میں جہاں منافع کے وسیع مواقع ہیں، وہیں دھوکہ دہی، فراڈ اور جعلی منصوبوں کا خطرہ بھی بہت زیادہ ہے۔
کرپٹو کرنسی کیا ہے؟
ایک سوال کے جواب میں معظم عارف نے بتایا کہ کرپٹو کرنسی ایک ایسا ڈیجیٹل مالیاتی نظام ہے جو روایتی بینکاری نظام کے متوازی کام کرتا ہے۔ اسے “ڈی سینٹرلائزڈ فنانس” کہا جاتا ہے کیونکہ اس پر کسی مرکزی بینک یا حکومتی ادارے کا مکمل کنٹرول نہیں ہوتا۔
اسی آزادی اور حکومتی نگرانی سے دور ہونے کی وجہ سے نوجوان نسل اس نظام کی طرف زیادہ متوجہ ہو رہی ہے، لیکن یہی غیر مرکزی نظام دھوکہ دہی کے امکانات بھی بڑھا دیتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کرپٹو کرنسی کی پوری طاقت بنیادی طور پر اس کے نیٹ ورک میں ہے، دنیا کی آبادی کے 1.5 فیصد افراد یعنی 650 ملین بٹ کوائن استعمال کرتے ہیں۔

کرپٹو فراڈ کیسے کیا جاتا ہے؟
انہوں نے بتایا کہ کرپٹو مارکیٹ میں سب سے زیادہ فراڈ جعلی منصوبوں اور “میم کوائنز” کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ ایسے منصوبے ابتدا میں لوگوں کو غیر معمولی منافع کے خواب دکھاتے ہیں، سوشل میڈیا پر تشہیر کی جاتی ہے اور سرمایہ کاروں کو جلد امیر بننے کے دعوے کیے جاتے ہیں۔
جب بڑی تعداد میں لوگ سرمایہ لگا دیتے ہیں تو بعض منصوبہ ساز اچانک رقم لے کر غائب ہوجاتے ہیں، جسے عام زبان میں “رگ پل” اسکیم کہا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کئی کرپٹو منصوبے دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ مستقبل میں انقلابی ٹیکنالوجی متعارف کرائیں گے مگر حقیقت میں ان کے پاس کوئی مضبوط منصوبہ موجود نہیں ہوتا۔ سرمایہ کار صرف سوشل میڈیا ہائپ، مشہور شخصیات کی تشہیر یا خوفِ محرومی (ایف او ایم او) کی بنیاد پر پیسہ لگا دیتے ہیں۔

سال 2017میں “انیشل کوائن آفرنگ” (آئی سی او ) کے نام پر ہزاروں منصوبے سامنے آئے جن میں سے متعدد بعد میں فراڈ ثابت ہوئے۔
کرپٹو دنیا میں “ڈی فائی” یعنی ڈی سینٹرلائزڈ فنانس کے بڑھتے رجحان نے بھی فراڈ کے نئے دروازے کھول دیے ہیں، چونکہ ان پلیٹ فارمز پر مکمل حکومتی نگرانی نہیں ہوتی، اس لیے ہیکنگ، جعلی ٹوکنز اور سرمایہ چوری ہونے کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بٹ کوائن اور ایتھیریم جیسے بڑے نیٹ ورکس نسبتاً مستحکم سمجھے جاتے ہیں، مگر نئی اور غیر معروف کرپٹو کرنسیاں زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔
حکومتیں کیوں متحرک ہو رہی ہیں؟
دنیا بھر کی حکومتیں اب کرپٹو مارکیٹ کے لیے قوانین اور ریگولیٹری ادارے قائم کرنے پر غور کر رہی ہیں تاکہ صارفین کو فراڈ اور مالی نقصان سے بچایا جاسکے۔
ماہرین کے مطابق کرپٹو میں سرمایہ کاری سے پہلے مکمل تحقیق، مستند معلومات اور رسک کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔



