واشنگٹن : امریکا نے ایران کی مبینہ معاونت کرنے پر 35 افراد اور اداروں کے خلاف نئی پابندی کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی ایران کے “شیڈو بینکنگ نیٹ ورک” کو نشانہ بنانے کے لیے کی گئی ہے، جس کے ذریعے اربوں ڈالر کی مالی ترسیلات انجام دی جا رہی تھیں۔
امریکی محکمہ خزانہ کے ذیلی ادارے (آفس آف فارن ایسٹس کنٹرول) او ایف اے سی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان افراد اور کمپنیوں نے ایران کو پابندیوں سے بچنے اور مبینہ طور پر دہشت گردی کی مالی معاونت میں سہولت فراہم کی۔
روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ اس نیٹ ورک کے ذریعے کئی ارب ڈالر کا غیر شفاف لین دین کیا گیا جو عالمی پابندیوں کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہیں۔
امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ کوئی بھی کمپنی اگر آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایرانی حکومت یا پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی )کو “ٹول ٹیکس” یا فیس ادا کرتی ہے تو اس کے خلاف بھی سخت پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل 16 اپریل کو بھی امریکی وزارت خزانہ نے ایران کی 12 اہم شخصیات، متعدد کمپنیوں اور بحری جہازوں پر پابندی عائد کی گئی تھی پابندیوں کی زد میں آنے والے افراد اور کمپنیاں محمد حسین شمخانی کیلئے کام کررہے تھے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کی پالیسی کا حصہ ہے، جس کا مقصد اس کی مالیاتی سرگرمیوں کو محدود کرنا اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو کم کرنا ہے۔



