spot_img

ذات صلة

جمع

5 سال میں 8 انتخابات : بلغاریہ میں شدید سیاسی بحران کی کہانی

صوفیہ : یورپی ملک بلغاریہ طویل عرصے سے سیاسی...

باسط علی نے شان مسعود سے معافی مانگ لی

کراچی : سابق کرکٹر باسط علی نے قومی ٹیم...

اسلام آباد کے ہائیکنگ ٹریلز بند، نوٹیفکیشن جاری

اسلام آباد (20 اپریل 2026) : ضلعی انتظامیہ نے...

زیادہ اسکرین ٹائم آپ کے بچے کو کس طرح متاثر کررہا ہے؟

لندن : ایک حالیہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے...

اسرائیل اب بھی ایران کیساتھ حالتِ جنگ میں ہے، نیتن یاہو

(20 اپریل 2026): اسرائیلی وزیر اعطم نیتن یاہو کا...

زیادہ اسکرین ٹائم آپ کے بچے کو کس طرح متاثر کررہا ہے؟

لندن : ایک حالیہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ نوزائیدہ بچوں کے اسکرین ٹائم میں تشویشناک حد تک اضافہ ہورہا ہے جس کے سبب صحت کے مسائل پیدا ہوسکتے ہپں جو والدین کیلیے لمحہ فکریہ ہے۔

موبائل اسکرین ننھے بچوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے، ماہرین کے مطابق اس عمل سے ان کی بولنے، سیکھنے اور توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیتیں متاثر ہوسکتی ہیں، اسکرین کا وقت نہیں بلکہ اس کا استعمال اصل مسئلہ ہے۔

برطانیہ کے ادارے یونیورسٹی کالج لندن کی جانب سے کی گئی تحقیق کے مطابق تقریباً چار میں سے تین بچے جن کی عمر صرف 9 ماہ ہے، روزانہ اسکرین کا استعمال کرتے ہیں، جبکہ بعض بچے روزانہ تین گھنٹے سے زائد وقت اسکرین کے سامنے گزارتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس عمر میں زیادہ اسکرین ٹائم بچوں کی نشوونما پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے، جن میں زبان سیکھنے میں تاخیر، سماجی میل جول میں کمی اور توجہ کی مدت کم ہونا شامل ہیں۔

تحقیق میں یہ دلچسپ پہلو بھی سامنے آیا کہ جن بچوں کے بہن بھائی ہوتے ہیں یا جو دو والدین کے ساتھ رہتے ہیں، ان میں اسکرین ٹائم نسبتاً کم ہوتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق دو سال سے کم عمر بچوں کے لیے اسکرین ٹائم بالکل نہیں ہونا چاہیے، جبکہ دو سے چار سال کے بچوں کے لیے روزانہ زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹہ اسکرین استعمال کی اجازت دی گئی ہے۔

تاہم عالمی سطح پر صورتحال اس کے برعکس نظر آتی ہے، جہاں دو سال سے کم عمر صرف چار میں سے ایک بچہ ہی ان ہدایات پر عمل کرتا ہے۔

تحقیق کے مطابق مسئلہ صرف اسکرین ٹائم کی مقدار کا نہیں بلکہ اس بات کا بھی ہے کہ اسکرین کس طرح اور کس مقصد کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔

ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ والدین بچوں کے ساتھ مل کر اسکرین کا استعمال کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ اسکرینز بچوں کی بنیادی نشوونما کی سرگرمیوں، جیسے بات چیت، پڑھنے اور کھیلنے کا متبادل نہ بنیں۔

ماہرین کے مطابق ننھے بچوں کا ضرورت سے زیادہ اسکرین ٹائم ان کی ذہنی، نفسیاتی اور جسمانی نشوونما کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے، جس سے ‘ورچوئل آٹزم’ اور بولنے میں تاخیر جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ 2 سال سے کم عمر بچوں کو اسکرین سے دور رکھنا چاہیے، جبکہ بڑے بچوں کے لیے روزانہ 1 گھنٹے سے کم اسکرین ٹائم مناسب ہے۔

spot_imgspot_img