کراچی کے علاقے لی مارکیٹ میں 4 بہنوں کے اکلوتے اور سب سے چھوٹے بھائی 6 سالہ ولی عابد کو اغوا اور زیادتی کے بعد بے دردی سے قتل کردیا گیا۔
کب کیا ہوا ؟
دو روز قبل گھر سے چیز لینے کے لیے نکلنے والا 6 سالہ ولی جب کافی دیر تک گھر واپس نہیں آیا تو اہل خانہ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی وہ سارا دن رات اپنے بچے کی تلاش میں مارے مارے پھرتے رہے، بالآخر دو روز بعد لاپتہ بچے والی عابد کی بوری بند لاش مل گئی کسی ظالم انسان نے بوری بند لاش تیسری منزل سے نیچے پھینکی۔
ابتدا میں غم سے نڈھال والدین نے الزام عائد کیا کہ بچے کی لاش کو 3 منزلہ عمارت سے پھینکا گیا۔ یہ واردات پڑوسی کے گھر میں ہوئی ہے جہاں انہیں داخل ہونے سے بھی روکا گیا۔
بعد ازاں مغوی 6 سالہ ولی کے اغوا اور سفاکانہ قتل کے بعد علاقے میں شدید اشتعال پھیل گیا، معصوم بچے کی لاش ملنے اور قاتل کی شناخت ہونے پر مشتعل علاقہ مکینوں نے سفاک ملزم حمزہ اور اس کے والد کو پکڑ کر بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جسے پولیس نے بمشکل چھڑا کر اپنی تحویل میں لیا، اہل علاقہ کی جانب سے ملزم کا گھر بھی جلانے کی کوشش کی گئی جسے پولیس نے ناکام بنادیا۔
پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے سفاک ملزم حمزہ کے گھر سے اس کے زیرِ استعمال پرانے کپڑے بطور سیمپل اپنے قبضے میں لیے اور مزید شواہد کیلیے جائے وقوعہ کا باریک بینی سے معائنہ کیا، حکام کا کہنا تھا کہ ملزم حمزہ کا ڈی این اے ٹیسٹ بھی کروایا جائے گا۔
ادھر لاش ملنے کے بعد 6 سالہ ولی کے گھر قیامت صغریٰ کا منظر تھا مقتول کی بہنیں اور والدین شدت غم سے نڈھال تھے اور وہاں موجود اہل محلہ کی آنکھیں بھی اشکبار تھیں۔
حمزہ کو لاکر دو میں اسے اپنے ہاتھوں سے ماروں گی
ولی کی ایک بہن نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملزم حمزہ کو مجھے لا کردیں میں اپنے ہاتھوں سے اسے ماروں گی، ولی ہم چار بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا اسے ہماری آنکھوں کے سامنے مار کر پھینک دیا گیا۔
بہن نے کہا کہ میرے بھائی کا قصور کیا تھا جو اسے بے دردی سے مار کر پھینکا گیا ہے، بچے کے والد نے کہا کہ اس قاتل کو چھوڑنا نہیں ہے اسے جلد از جلد قرار واقعی سزا دی جائے۔
سفاک ملزم حمزہ کی مکاریاں
6سالہ ولی قتل کیس میں دوران تفتیش انتہائی چونکا دینے والے حقائق سامنے آئے۔ مقتول بچے کی بہن اور پولیس حکام نے انکشاف کیا ہے کہ قاتل کوئی اجنبی نہیں ان کا پڑوسی تھا جو انتہائی مکاری کے ساتھ معصوم ولی کو اغوا اور قتل کرنے کے بعد خود کو قانون سے بچانے کے لیے ڈرامے بازی کرتا رہا۔
مقتول ولی کی بہن نے بتایا کہ بھائی کی گمشدگی کے بعد ملزم حمزہ خود ان کے گھر آیا ،حمزہ نے ہم سے ہمدردی جتائی اور کہا کہ پریشان مت ہو میں تمہارا بھائی تلاش کرکے دوں گا۔
ملزم حمزہ مسلسل ہمارے ساتھ گھومتا رہا اور ولی کو ڈھونڈنے کا ڈرامہ کرتا رہا تاکہ کسی کو اس پر شک نہ ہو۔
تفتیشی افسر عارف تنولی نے بتایا کہ ملزم حمزہ نے صرف خاندان کو ہی نہیں بلکہ پولیس کو بھی گمراہ کیا، ملزم حمزہ خود پولیس کے پاس آیا اور کہا کہ میں اصلی ملزمان کو پکڑواتا ہوں اور پولیس افسران بھی اس کی باتوں میں آّگئے۔
اس نے پولیس کو گمراہ کرنے کے لیے جھوٹی کہانیاں سنائیں جس پر پولیس نے یقین کرتے ہوئے سلطان آباد اور گذری کے مختلف علاقوں میں چھاپے بھی مارے، ملزم ہمیں جہاں جہاں لے کر گیا اور جن لوگوں یا برادریوں پر شک ظاہر کر رہا تھا، تفتیش میں وہ سب باتیں جھوٹی اور حقیقت کے برعکس نکلیں۔
بعد ازاں ایس ایچ او نے میڈیا کو بتایا کہ جب ملزم حمزہ کو اس بات کا یقین ہوگیا کہ پولیس اب اس کے بالکل قریب پہنچ چکی ہے اور وہ بچ نہیں پائے گا، تو اس نے پکڑے جانے کے خوف سے معصوم بچے کو اوپر سے نیچے پھینک دیا، جس سے اس کی موت واقع ہوگئی۔
ملزم کا اعترافی بیان
گرفتاری کے بعد ملزم کا ایک ویڈیو بیان منظرِ عام پر آیا جس نے کیس کو ایک نیا رخ دے دیا۔ ویڈیو میں ملزم نے اعتراف کیا کہ اس نے 6 سالہ بچے علی کو اغوا کرنے کے بعد اپنے گھر کے ساتھ والی چھت پر چھپا کر رکھا ہوا تھا۔
ملزم نے اہل محلہ کے سامنے بھی اس بات کا انکشاف کیا کہ وہ اس گھناؤنی واردات میں اکیلا نہیں تھا بلکہ اس کے مزید دو ساتھی بھی شامل تھے، ان دونوں مفرور ساتھیوں کا تعلق کراچی کے علاقے ناظم آباد سے ہے۔
دوسری جانب پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ان کی اب تک کی تفتیش کے مطابق ملزم نے یہ واردات اکیلے ہی سرانجام دی ہے اور اس کا کوئی دوسرا ساتھی نہیں تھا۔
اعلیٰ حکام کا سخت نوٹس
میڈیا میں خبر نشر ہونے کے بعد اعلیٰ حکام نے بھی واقعے کا سختی سے نوٹس لیام، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے انسپکٹر جنرل سندھ پولیس سے فوری رپورٹ طلب کرلی ہے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ تحقیقات شفاف انداز میں مکمل کی جائیں اور اگر کسی کے خلاف جرم ثابت ہوتا ہے تو اسے قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دلائی جائے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مختلف شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں، جبکہ فرانزک اور پوسٹ مارٹم رپورٹس کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
اس افسوسناک واقعے پر علاقے کے مکینوں نے بھی شدید دکھ اور غم کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ بچوں کے خلاف جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
کراچی : زیادتی کے بعد قتل ہونے ولے بچے ‘ولی’ کی بہن کے چونکا دینے والے انکشافات



