بھارت میں انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ کھالڑا کی زندگی پر مبنی فلم ’ستلج‘ ریلیز کے دو روز بعد ہی ہٹا دی گئی، کہانی نے ایک بار پھر 1990 کی دہائی کے پنجاب کے حالات پر بحث چھیڑ دی۔
بھارتی اداکار اور گلوکار دلجیت دوسانجھ ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئے ہیں، تاہم اس بار وجہ ان کی نئی فلم ’ستلج‘ ہے، جسے اسٹریمنگ پلیٹ فارم زی5 پر ریلیز کے محض دو روز بعد بھارت میں عارضی طور پر ہٹا دیا گیا۔
یہ فلم انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ کھالڑا کی زندگی اور ان کی جدوجہد پر مبنی ہے، جس نے ایک بار پھر پنجاب میں 1980 اور 1990 کی دہائی کے واقعات پر بحث چھیڑ دی ہے۔
فلم 3 جولائی کو زی5 پر ریلیز ہوئی اور اپنی مضبوط کہانی اور دلجیت دوسانجھ کی اداکاری کی بدولت ناظرین کی توجہ حاصل کی۔ تاہم 5 جولائی کو پلیٹ فارم نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں اعلان کیا کہ موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر فلم کو اگلے نوٹس تک بھارت میں دستیاب نہیں رکھا جائے گا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ قانونی اور انتظامی تقاضے پورے کرتے ہوئے فلم کو جلد ہی دوبارہ ناظرین کے لیے پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق او ٹی ٹی ریلیز سے قبل بھی فلم کو سنٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن کی جانب سے اعتراضات کا سامنا رہا اور فلم سازوں سے متعدد مناظر میں تبدیلیاں کرنے کو کہا گیا تھا۔
جسونت سنگھ کھالڑا کون تھے؟
جسونت سنگھ کھالڑا 1952 میں بھارتی ریاست پنجاب کے ضلع امرتسر کے گاؤں کھالڑا میں پیدا ہوئے، پیشے کے اعتبار سے وہ بینک ملازم تھے، تاہم بعد میں انسانی حقوق کے کارکن کے طور پر نمایاں ہوئے۔
1980اور 1990 کی دہائی میں پنجاب میں شورش، عسکریت پسندی اور انسدادِ شورش کارروائیوں کے دوران متعدد افراد کی گمشدگیوں اور مبینہ ماورائے عدالت ہلاکتوں کے واقعات سامنے آئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جسونت سنگھ کھالڑا نے ان واقعات کی تحقیقات شروع کیں، خاص طور پر اس وقت جب ان کے چند دوست اور ساتھی بھی لاپتا ہوگئے۔
تحقیقات کے دوران انہوں نے امرتسر میونسپل کارپوریشن کے ریکارڈ تک رسائی حاصل کی، جہاں سے مبینہ طور پر ایسے ہزاروں افراد کی آخری رسومات کے سرکاری ریکارڈ ملے جن کی شناخت اور موت کے حالات عوام کے سامنے نہیں آئے تھے۔
“I challenge the darkness. If nothing else, then at least around myself, I will not let it settle. Around myself, I will establish light.”- Jaswant Singh Khalra.
Some stories dont disappear, Satluj remembers.#panjab95 #satluj pic.twitter.com/9qYG7a725B
— जाट समाज (@JAT_SAMAAJ) July 6, 2026
ان کی تحقیق کو پنجاب میں مبینہ غیرقانونی ہلاکتوں اور خفیہ تدفین کے معاملات کو منظرِ عام پر لانے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جاتا ہے۔
جسونت سنگھ کھالڑا کی زندگی اور جدوجہد آج بھی انسانی حقوق کے حوالے سے ہونے والی بحث کا اہم موضوع سمجھی جاتی ہے، جبکہ ان کی زندگی پر بننے والی فلم ’ستلج‘ نے ایک بار پھر اس حساس باب کو عوامی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔
فلم میں دلجیت دوسانجھ کے علاوہ ارجن رامپال، کنولجیت سنگھ، سویندر وکی اور گیتیکا ودیا اولیان نے اہم کردار ادا کیے ہیں۔



