امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے وابستہ بڑھتی ہوئی عالمی طلب کے باعث اپنی کئی اہم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔
کمپنی کے مطابق میموری اور اسٹوریج چپس کی لاگت میں غیر معمولی اضافے نے اسے یہ فیصلہ کرنے پر مجبور کیا۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایپل کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے لیے قائم کیے جانے والے ڈیٹا سینٹرز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں میموری اور اسٹوریج چپس کی طلب ریکارڈ سطح تک پہنچ چکی ہے۔ بڑھتی ہوئی طلب کے مقابلے میں سپلائی محدود ہونے کے باعث ان اہم پرزوں کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
کمپنی کی جانب سے جاری کردہ نئی قیمتوں کے مطابق 14 انچ میک بک پرو کی قیمت 1700 ڈالر سے بڑھا کر 2000 ڈالر کر دی گئی ہے جبکہ آئی پیڈ ایئر اب 600 ڈالر کے بجائے 750 ڈالر میں دستیاب ہوگا۔ اسی طرح ایپل ٹی وی اسٹریمنگ ڈیوائس کی قیمت 130 ڈالر سے بڑھا کر 200 ڈالر مقرر کر دی گئی ہے۔
تاہم ایپل نے فی الحال اپنے سب سے زیادہ فروخت ہونے والے اور آمدنی کے بڑے ذریعے آئی فون کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ ماہرین کے مطابق کمپنی نے صارفین کی خریداری کی قوت اور مارکیٹ میں مسابقت کو مدنظر رکھتے ہوئے آئی فون کی قیمت برقرار رکھی ہے۔
ایپل کے ترجمان نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے انفراسٹرکچر میں تیزی سے ہونے والی سرمایہ کاری نے میموری اور اسٹوریج کے شعبے پر بے پناہ دباؤ ڈال دیا ہے۔ ان کے بقول کمپنی نے ماضی میں اضافی اخراجات خود برداشت کیے، لیکن موجودہ صورتحال میں ایسا کرنا ممکن نہیں رہا۔
قیمتوں میں اضافے کے اعلان کے بعد سرمایہ کاروں نے محتاط ردعمل ظاہر کیا اور ایپل کے حصص کی قیمت میں کاروبار کے آغاز پر چار اعشاریہ سات فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔
دوسری جانب ایپل میں قیادت کی تبدیلی بھی متوقع ہے۔ کمپنی کے موجودہ چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹم کک کی جگہ جان ٹرنس یکم ستمبر کو عہدہ سنبھالیں گے، جبکہ اسی مہینے نئی نسل کے آئی فون متعارف کرائے جانے کی توقع کی جا رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت کے لیے درکار ڈیٹا سینٹرز اور انفراسٹرکچر کی توسیع موجودہ رفتار سے جاری رہی تو آنے والے مہینوں میں دیگر الیکٹرانک مصنوعات کی قیمتوں میں بھی مزید اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔



