کراچی : پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں 250 سال پرانی اور تاریخی ’گوان برادری ‘ آج بھی اپنی منفرد شناخت برقرار رکھے ہوئے ہے۔
بھارتی ریاست گووا سے صدیوں قبل ہجرت کرکے آنے والے خاندانوں نے کراچی کی تعلیم، صحت اور سماجی زندگی میں اہم کردار ادا کیا، مگر وقت کے ساتھ ساتھ ان کی آبادی میں نمایاں کمی آتی گئی۔
زاویہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ایک ایسی تاریخی برادری بھی آباد ہے جس کی جڑیں تقریباً ڈھائی سو سال پرانی پرتگالی اور گوان تاریخ سے جا ملتی ہیں
گوان کمیونٹی اپنی منفرد ثقافت، زبان، روایات اور ذائقہ دار کھانوں کے باعث آج بھی شہر کی سماجی و ثقافتی شناخت کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہے۔
گوان برادری سے مراد وہ افراد ہیں جن کا تعلق بھارتی ریاست گووا سے ہے۔ مقامی کونکنی زبان میں انہیں گوئنکر (Goenkar) جبکہ پرتگالی زبان میں گوئیز (Goeses) کہا جاتا ہے۔ یہ برادری صرف ایک نسلی شناخت نہیں بلکہ بھارتی، دراوڑی اور پرتگالی تہذیبوں کے امتزاج کی منفرد مثال ہے۔

برادری کے بزرگوں کے مطابق گوان خاندان 18ویں صدی میں اُس وقت کراچی آئے جب برصغیر متحد تھا۔ وہ بحری جہازوں کے ذریعے کراچی پہنچے اور ابتدائی طور پر بندرگاہ، ریلوے، ٹیلی کمیونیکیشن، کلبوں، تعلیمی اداروں اور صحت کے شعبے میں خدمات انجام دیں۔
1960 کی دہائی میں کراچی میں گوان کمیونٹی کی آبادی تقریباً 15 ہزار سے 20 ہزار کے درمیان تھی، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ بڑی تعداد میں افراد برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا منتقل ہو گئے۔ اس وقت اندازاً کراچی میں اس برادری کے 5 ہزار سے 10 ہزار افراد رہائش پذیر ہیں۔
کراچی کے علاقے صدر میں آج بھی کئی تاریخی عمارتیں اور عبادت گاہیں اس برادری کی قدیم موجودگی اور ثقافتی ورثے کی گواہی دیتی ہیں۔ اگرچہ ان کی تعداد پہلے کے مقابلے میں کم ہو چکی ہے، لیکن گوان کمیونٹی اپنی ثقافتی روایات، زبان اور مخصوص پکوانوں کے ذریعے اپنی شناخت کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔



