پنجاب سے 45 لاکھ ٹن گندم کے غائب ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
وفاق اور صوبوں کو پالیسی کے مطابق گندم کی خریداری میں دشواری کا سامنا ہے جبکہ پنجاب سے 45 لاکھ ٹن گندم کے غائب ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب سے گندم غائب ہونے کا انکشاف اعلیٰ سطح اجلاس ہوا ہے۔
پنجاب کے اعلیٰ افسر نے دوسرے صوبوں کو پوچھا گیا گندم آپ کے صوبوں میں آئی؟ دوسرے صوبوں نے معاملے سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ذخیرہ اندوزی ہوئی ہوگی۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے ریٹ 3500 روپے فی من مقرر کیا تو نجی سیکٹر نے مہنگی ہونے پر نہیں خریدی۔
گندم کےبحران کاخدشہ
موجودہ دورمیں3rdٹائم گندم کےبحران کاخطرہ
چندروزقبل اعلیٰ میٹنگ میں
پنجاب کی45لاکھ ٹن گندم کےغائب ہونےکابھی انکشاف۔Pnjافسرنےپوچھاکیایہ گندم آپکےصوبوں می آئی توانہوں نےکہاہمارےپاس ہوتی تواتنی مہنگی ملتی
نجی سیکٹرنےخریداری نہ کی
زخیرہ اندوزی ہوئی
ابھیseasonکاآغاز pic.twitter.com/XYxgMmndPv— Naeem Ashraf Butt (@NaeemAshrafBut2) July 6, 2026
پنجاب نے نجی سیکٹر کو سہولت دے کر گندم خریدنے کا ٹاسک دیا تھا، نجی سیکٹر نے گندم خریداری کے لیے بینک سے قرض دلوانے کا مطالبہ کیا تھا۔
سیزن کے آغاز ہی میں سندھ اور کے پی میں فی من گندم کا ریٹ 4500 تک پہنچ گیا۔ ذخیرہ اندوزوں نے کسان سے 2800 روپے من گندم خرید کر ذخیرہ کرلی۔



