ہڈیوں کا درد ایک نایاب بیماری کی علامت ہے جو ہڈی کے خلیات میں غیر معمولی اور بے قابو نشوونما کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے یہ درد، سوجن اور فریکچر کا باعث بھی بنتا ہے۔
یہ اکثر بازوؤں اور ٹانگوں کی لمبی ہڈیوں کو متاثر کرتا ہے اور اس کی عام اقسام میں اوسٹیوسارکوما (بچوں میں) اور کونڈروسارکوما (بڑوں میں) شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق ہڈیوں میں معمولی درد کو بھی سنجیدگی سے لینا چاہیے کیونکہ بعض اوقات یہ ہڈیوں کے کینسر کی ابتدائی علامت ہو سکتا ہے۔ یہ بیماری اگرچہ نسبتاً کم پائی جاتی ہے، تاہم بچوں اور نوجوانوں میں اس کے کیسز زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں۔
طبی ماہر کے مطابق ہڈیوں کا کینسر اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہڈی کے خلیات غیر معمولی رفتار سے بڑھنے لگتے ہیں اور اردگرد کے ٹشوز کو متاثر کرتے ہیں۔ یہ کینسر دو اقسام کا ہو سکتا ہے: ایک وہ جو ہڈی میں ہی پیدا ہو (پرائمری)، اور دوسرا وہ جو جسم کے کسی اور حصے سے پھیل کر ہڈی تک پہنچے (میٹاسٹیٹک)۔
ہڈیوں کے کینسر کی کئی اقسام ہوتی ہیں جن میں اوسٹیوسارکوما، ایونگ سارکوما اور کونڈروسارکوما شامل ہیں۔ ان میں اوسٹیوسارکوما نوجوانوں میں زیادہ عام ہے جبکہ کونڈروسارکوما عموماً بڑی عمر کے افراد میں دیکھا جاتا ہے۔
اس بیماری کی وجوہات میں جینیاتی اثرات، زیادہ ریڈی ایشن کا سامنا اور دیگر کینسرز کا ہڈیوں تک پھیل جانا شامل ہیں۔ اگر خاندان میں کسی کو یہ مرض لاحق ہو تو اس کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
علامات کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ ابتدا میں یہ واضح نہیں ہوتیں، مگر وقت کے ساتھ شدت اختیار کر لیتی ہیں۔ عام علامات میں مسلسل ہڈیوں کا درد، متاثرہ حصے میں سوجن، ہڈیوں کا کمزور ہونا، بغیر وجہ تھکن، وزن میں کمی، بخار اور رات کو زیادہ پسینہ آنا شامل ہیں۔
تشخیص کے لیے ایکس رے، سی ٹی اسکین، ایم آر آئی اور بایوپسی جیسے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں، جبکہ علاج میں سرجری، کیموتھراپی اور ریڈیوتھراپی شامل ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ اگر ہڈیوں میں مسلسل یا غیر معمولی درد محسوس ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے تاکہ بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہوسکے۔



