کاروں کا مستقبل اب آرٹیفشل انٹیلی جینس سے بنے گا، فزیکل اے آئی اب صرف اسکرین تک محدود نہیں بلکہ حقیقی دنیا میں کام کررہی ہے، یہ ٹیکنالوجی کاروں کی نئی تعریف بیان کرتی ہے۔
شاید ’’فزیکل اے آئی‘‘ مارکیٹنگ میں ایک نیا لفظ ہو لیکن یہ آٹو انڈسٹری کو ایک ایسی سمت میں لے جا رہا ہے جہاں مشینیں صرف دیکھیں گی نہیں، سمجھیں گی بھی۔
لاس ویگاس میں منعقد ہونے والی عالمی ٹیک نمائش سی ای ایس 2026 میں اس بار ایک نیا لفظ سب کی توجہ کا مرکز بنا رہا وہ تھا ’’فزیکل اے آئی‘‘۔ بظاہر یہ اصطلاح عجیب سی محسوس ہوتی ہے جیسے کمپیوٹر کو جسم مل گیا ہو لیکن ٹیکنالوجی کمپنیوں کے نزدیک یہی ان کا مستقبل ہے۔
رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ فزیکل اے آئی دراصل ایسے خود کار نظام کا تصور ہے جو کیمروں اور سینسرز سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کی مدد سے اردگرد کی دنیا کو سمجھ سکیں، اس پر غور کریں اور پیچیدہ فیصلے کرتے ہوئے فوری عملی طور پر ردِعمل دیں۔
ماہرین کے مطابق یہی ٹیکنالوجی مستقبل میں گاڑیوں کو پیچیدہ ٹریفک میں خود کار نظام کے تحت چلانے اور انسانی ڈرائیور سے سافٹ ویئر تک کنٹرول کی منتقلی ممکن بنائے گی۔

چِپ ساز کمپنیاں، خصوصاً این ویڈیا اور اے آر ایم، اس میدان میں سب سے زیادہ سرگرم ہیں، ایک اندازے کے مطابق یہ شعبہ 2032 تک 123 ارب ڈالر کی مارکیٹ بن سکتا ہے۔
عالمی ٹیک نمائش سی ای ایس 2026 میں کئی بڑے دعوے بھی سامنے آئے جس میں کہا گیا کہ فورڈ 2028تک محدود حد تک بغیر سڑک دیکھے ڈرائیونگ کا نظام لانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
سونی اور ہونڈا کی افیلا گاڑی زیادہ تر حالات میں خود کار نظام کے تحت چلنے کے قابل ہوگی، جبکہ مرسڈیز بینز اور جیلی بھی این ویڈیا کے تعاون سے جدید خودکار نظام متعارف کروا رہی ہیں۔



