spot_img

ذات صلة

جمع

کراچی میں بارشوں کی پیشگوئی، بلدیاتی عملے کی چھٹیاں منسوخ، متعلقہ محکمے ہائی الرٹ

کراچی (1 اپریل 2026): شہر قائد میں بارشوں کی پیشگوئی کے پیش نظر مختلف علاقوں میں ڈی واٹرنگ پمپس میں اضافہ کر دیا گیا۔

ڈپٹی میئر کراچی سلمان مراد نے اپنے میں بتایا کہ بارشوں کی پیشگوئی کے پیش نظر بلدیاتی عملے کی چھٹیاں منسوخ اور تمام متعلقہ محکمے ہائی الرٹ کر دیے۔

سلمان مراد نے بتایا کہ سائٹ، نرسری، اسٹیڈیم روڈ، کارسازا ور نیپا پر بھی ڈی واٹرنگ پمپس کی تنصیب کر دی گئی، ملینیئم مال، بروکس چورنگی اور دیگر مقامات پر اضافی پمپس لگا دیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ شہریوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنا بلدیہ عظمیٰ کراچی کی اولین ترجیح ہے، پانی کے اخراج کیلیے چوکنگ پوائنٹس پر اضافی پمپنگ مشینری تعینات کر دی ہے۔

ڈپٹی میئر کراچی کے مطابق مرکزی شاہراہوں اور اہم گزرگاہوں پر بلدیاتی عملہ تعینات کر دیا گیا، شہری بارش میں احتیاط کریں اور ہنگامی صورتحال میں فوری رابطہ کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ بلدیہ عظمیٰ تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔

بارشوں کے طاقتور سسٹم کی انٹری

واضح رہے کہ محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں آج سے 4 اپریل تک بارشوں کی پیشگوئی کرتے ہوئے الرٹ جاری کر دیا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق 4 اپریل تک صوبے کے بیشتر حصوں میں تیز ہواؤں، گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارش اور ژالہ باری کا امکان ہے۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق بلوچستان کے 30 سے زائد اضلاع اس نئے موسمیاتی سسٹم کی زد میں ہیں۔ خاص طور پر 18 اضلاع ایسے ہیں جہاں ندی نالوں اور پہاڑی سلسلوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا شدید خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

خضدار، قلات، سوراب، لسبیلہ، حب، کیچ اور گوادر میں گرج چمک کے ساتھ تیز بارش متوقع ہے جبکہ قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ، ژوب، ہرنائی، لورالائی، زیارت اور شیرانی میں موسلادھار بارشیں ہو سکتی ہیں۔

کوہلو، آواران، خاران اور مستونگ میں بھی تیز بارش اور سیلابی ریلوں کے امکانات موجود ہیں۔

پی ڈی ایم اے نے عوام کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ متوقع بارشوں کے دوران تمام حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔

شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے مکمل اجتناب کریں، خاص طور پر ندی نالوں اور سیلابی راستوں کے قریب جانے سے گریز کریں۔ ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہائی الرٹ رہنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔

دوسری جانب خیبرپختونخوا ، گلگت بلتستان اوربلوچستان کے متعدد اضلاع میں سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے، پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ بھی متوقع ہے جبکہ آزادکشمیراور بالائی پہاڑی علاقوں میں برف باری کا بھی امکان ہے۔

spot_imgspot_img