spot_img

ذات صلة

جمع

کراچی : بچوں میں ایچ آئی وی کی وبا کیوں اور کیسے پھیلی؟ ہولناک انکشاف

کراچی : شہر قائد کے ایک اسپتال میں زیرعلاج 100 سے زائد بچوں میں ایچ آئی وی (ایڈز) کی تصدیق کے بعد صورتحال انتہائی تشویشناک ہوگئی۔

کراچی کے سائٹ ولیکا اسپتال میں گزشتہ 9 ماہ کے دوران ایک ہی محلہ کے ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کی تعداد 100 سے زائد ہوگئی، اہل محلہ کا دعویٰ ہے کہ سال بھر میں اب تک 9 بچے جاں بحق ہوچکے ہیں۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام آن مائی راڈار میں ادارہ عالمی صحت کے سابق ڈائریکٹر ڈاکٹر ظفر مرزا نے کراچی کے اس سنگین مسئلے سے متعلق تفصیلی گفتگو کی۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں متعدد بچوں کے ایچ آئی وی سے متاثر ہونے کا واقعہ محض ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ حکمرانی، صحت کے انتظامی ڈھانچے اور نگرانی کے نظام کی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2019 میں اندرون سندھ کے علاقے رتوڈیرو میں سامنے آنے والی ایچ آئی وی کی بڑی وبا کے بعد انجیکشن سیفٹی کے لیے قومی سطح پر ٹاسک فورس قائم کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں دوبارہ استعمال ہونے والی سرنجوں پر سختی سے پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

قانون کے مطابق پاکستان میں صرف ایک بار استعمال ہونے والی (ون ٹائم یوز) سرنجیں ہی فروخت کی جا سکتی ہیں، تاہم بعض مقامات پر ان ہی سرنجوں کو غیر قانونی طور پر دوبارہ استعمال کیا جا رہا ہے جو انتہائی تشویشناک عمل ہے اس سے ایچ آئی وی اور دیگر مہلک بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔

ڈاکٹر ظفر مرزا نے مزید کہا کہ خون کی منتقلی سے قبل ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس بی، ہیپاٹائٹس سی، سفلس اور ملیریا سمیت پانچ بیماریوں کی لازمی اسکریننگ ہونی چاہیے مگر پاکستان میں بلڈ اسکریننگ کا نظام بھی غیرمؤثر ہے، جس کے باعث بعض اوقات آلودہ خون مریضوں، خصوصاً بچوں کو منتقل ہو جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بعض حکومتی حلقوں کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ یہ معلومات میڈیا تک کیسے پہنچیں؟ جبکہ اصل ضرورت بیماری کی وجوہات کا خاتمہ اور ذمہ داروں کے خلاف مؤثر کارروائی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ارباب اختیار حقیقت اور ڈیٹا چھپانے کے بجائے صحت کے نظام کو درست کرنے پر خصوصی توجہ دیں۔

کراچی میں ایک اور بچہ مہلک وائرس ایچ آئی وی کا شکار

spot_imgspot_img