خیرپور : نوجوان لڑکی کو کاری قرار دے کر قتل کرنے والے وڈیرے کو جیل بھیج دیا گیا جبکہ اس کے ساتھی کو ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا گیا۔
خیرپور کے علاقے ٹنڈو مستی میں کاروکاری کے الزام میں گزشتہ دنوں قتل کی جانے والی 20 سالہ لڑکی خالدہ چانڈیو کے قتل میں بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے۔
خیرپور پولیس نے گزشتہ روز نوجوان لڑکی کے قتل کا جرگہ کرنے والے وڈیرے کو سول جج کے حکم پر گرفتار کیا تھا جسے عدالت میں پیش کردیا گیا۔
مقدمے کی سماعت کے موقع پر ملزمان قیصر چانڈیو اور ولی محمد چانڈیو کیخلاف سول جج نے ملزم قیصر چانڈیو کو جیل بھیجنے کا حکم دیا جب کہ ملزم ولی چانڈیو کو 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔
خیرپور کی مقامی عدالت نے ملزمان کے الگ الگ بیانات قلمبند کرنے کے بعد اپنا فیصلہ سنایا، پولیس کے مطابق ملزم قیصر چانڈیو نے عدالت کے سامنے لڑکی کے قتل کا اعتراف کرلیا ہے۔
واضح رہے کہ مذکورہ لڑکی کو کچھ روز قبل بٹو چانڈیو گاؤں میں کاری قرار دے کر قتل کردیا گیا تھا، جس کی اطلاع ملنے پر پولیس نے قانونی کارروائی کی۔
یاد رہے کہ مقتولہ خالدہ چانڈیو کو ایک وڈیرے نے جرگے میں کاری قرار دے کر قتل کا فتویٰ جاری کیا تھا، جس کے بعد ہجوم کی موجودگی میں لڑکی کے ماما قیصر چانڈیو اور نانا ولی محمد نے فائرنگ کرکے اسے بے دردی سے قتل کر دیا تھا۔
بعد ازاں پولس نے قتل کیس میں مرکزی ملزمان سمیت 18 افراد کو گرفتار کرلیا تھا حکام کا کہنا تھا کہ مقتولہ کی خاموشی سے تدفین کرنے والے مولوی منیر چانڈیو کو بھی گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔



