spot_img

ذات صلة

جمع

3 ماہ سے گمشدہ بچہ بازیاب، والدین سے ملنے کے رقت انگیز مناظر

لاہور : شیخوپورہ سے تعلق رکھنے والے گمشدہ بچہ...

ذیابیطس کی 5ویں قسم باضابطہ طور پر تسلیم

ذیابیطس نامی بیماری جسے عرف عام میں ’شوگر‘ بھی...

نامور اداکارہ کے پرس سے ہزاروں روپے چوری، شوٹنگ سیٹ پر کھلبلی مچ گئی

(18 اپریل 2026): شوٹنگ میں مصروف نامور اداکارہ کے...

ذیابیطس کی 5ویں قسم باضابطہ طور پر تسلیم

ذیابیطس نامی بیماری جسے عرف عام میں ’شوگر‘ بھی کہا جاتا ہے عام طور پر دو اقسام ٹائپ ون اور ٹائپ ٹو میں پائی جاتی ہے تاہم محققین کا کہنا ہے کہ اب ذیابیطس فائیو  نے بھی اپنے قدم جمالیے ہیں۔

ذیابیطس کے بارے میں آگاہی ضروری ہے کیونکہ یہ ایک دائمی بیماری ہے جو دنیا بھر میں تیزی سے پھیل رہی ہے اور اگر اس پر فوری قابو نہ پایا جائے تو دل، گردوں، آنکھوں اور اعصاب کو شدید نقصان پہنچاتی ہے۔

ذیابیطس کی نئی قسم ٹائپ 5 کیا ہے؟ اس کے ہونے کی وجوہات کیا ہیں اور کن لوگوں کو متاثر کرسکتی ہے؟ مندرجہ ذیل سطور میں جانیے۔

بین الاقوامی سطح پر ذیابیطس سے متعلق ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں انٹرنیشنل ذیابیطس فیڈریشن نے طویل سائنسی تحقیق اور بحث کے بعد اس بیماری کی ایک نئی، پانچویں قسم کو باضابطہ طور پر تسلیم کرلیا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ نئی قسم دنیا بھر میں تقریباً ڈھائی کروڑ افراد کو متاثر کرسکتی ہے، خاص طور پر وہ ممالک جہاں آمدنی کم یا درمیانی سطح کی ہے اور غذائی قلت ایک عام مسئلہ ہے۔

 سائنسی ویب سائٹ ”سائنس الرٹ” کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس بیماری کو پہلے غذائی کمی سے جڑی ذیابیطس کے طور پر دیکھا جاتا تھا، تاہم اب اسے ایک الگ اور منفرد طبی حالت کے طور پر پہچان دی گئی ہے۔

اب تک ذیابیطس کو چار بڑی اقسام میں تقسیم کیا جاتا تھا۔ پہلی قسم ایک خودکار مدافعتی بیماری ہے جس میں جسم اپنے ہی انسولین بنانے والے خلیوں کو نقصان پہنچاتا ہے، جبکہ دوسری قسم عام طور پر طرزِ زندگی سے جڑی ہوتی ہے اور اس میں جسم انسولین کے خلاف مزاحمت پیدا کر لیتا ہے۔

تیسری قسم لبلبے کو لاحق بیماری یا چوٹ کے باعث سامنے آتی ہے، اور چوتھی قسم حمل کے دوران ہارمونل تبدیلیوں کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔

نئی تسلیم شدہ پانچویں قسم کی خاص بات یہ ہے کہ یہ طویل عرصے تک غذائی کمی کے باعث پیدا ہوتی ہے، جس سے لبلبہ متاثر ہوتا ہے اور انسولین بنانے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔

تحقیق سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ اس قسم میں مریضوں کے جسم میں انسولین کی پیداوار تو کم ہوتی ہے، لیکن وہ انسولین کے خلاف مزاحمت پیدا نہیں کرتے، جو اسے دوسری قسم سے مختلف بناتا ہے۔

اسی فرق کی وجہ سے روایتی علاج، خاص طور پر انسولین کا استعمال، ہر مریض کے لیے مؤثر نہیں ہوتا بلکہ بعض صورتوں میں نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے شوگر کی سطح خطرناک حد تک کم ہو سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بچپن میں غذائی کمی لبلبے پر دیرپا اثرات ڈال سکتی ہے، جس کے نتیجے میں جسم کی شوگر کو متوازن رکھنے کی صلاحیت متاثر ہو جاتی ہے۔

ماضی میں اس بیماری کی واضح تشخیص نہ ہونے کی وجہ سے اسے دیگر اقسام کے ساتھ ملا دیا جاتا تھا، جس سے نہ صرف اس کی درست تعداد معلوم نہ ہوسکی بلکہ علاج کے مؤثر طریقے بھی سامنے نہ آسکے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نئی قسم کو تسلیم کرنا ایک اہم قدم ضرور ہے لیکن اس بیماری کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے مزید تحقیق ناگزیر ہے۔

اونٹنی، گائے یا بھینس : ذیابیطس کے مریضوں کیلیے کون سا دودھ شفاء بخش ہے؟

spot_imgspot_img