spot_img

ذات صلة

جمع

3 ماہ سے گمشدہ بچہ بازیاب، والدین سے ملنے کے رقت انگیز مناظر

لاہور : شیخوپورہ سے تعلق رکھنے والے گمشدہ بچہ...

ذیابیطس کی 5ویں قسم باضابطہ طور پر تسلیم

ذیابیطس نامی بیماری جسے عرف عام میں ’شوگر‘ بھی...

نامور اداکارہ کے پرس سے ہزاروں روپے چوری، شوٹنگ سیٹ پر کھلبلی مچ گئی

(18 اپریل 2026): شوٹنگ میں مصروف نامور اداکارہ کے...

بینکنگ فراڈ کا خطرناک طریقہ کار : آن لائن جعلسازی سے کیسے محفوظ رہیں؟

ملک بھر سے آج کل بینکنگ فراڈ اور آن لائن جعل سازی کے واقعات کی خبریں تسلسل سے سامنے آرہی ہیں جس میں لوگ اپنی جمع پونجی سے محروم ہورہے ہیں۔

اس کام کیلیے جعل ساز گروہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ڈپلیکیٹ سموں کے ذریعے سادہ لوح شہریوں سے ان کی محنت کی کمائی لوٹ رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ فراڈ نہایت منظم، پیچیدہ اور بعض اوقات انتہائی حقیقی محسوس ہوتے ہیں، جس کے باعث عام صارفین آسانی سے دھوکہ بازوں کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔

اس حوالے سے ایک متاثرہ خاتون نے بتایا کہ وہ پاکستان میں نہیں تھیں، لیکن ان کے کریڈٹ کارڈ فعال تھے، جب وہ وطن واپس آئیں تو اگلے دن انہیں دو فون کالز آئیں جو بظاہر بینک کی طرف سے لگ رہی تھیں۔

کال کرنے والوں کے پاس ان کی تمام معلومات موجود تھیں اور وہ بالکل بینک کے نمائندے جیسے لگ رہے تھے۔

خاتون کا کہنا تھا کہ مجھے تھوڑا سا شک بھی ہوا کہ شاید یہ ہیکر ہیں مگر وہ پھر بھی اپنی معلومات بتاتی رہیں، اس دوران وہ ذہنی الجھن کا شکار ہوگئیں اور یہی ہیکرز کی چال ہوتی ہے۔

واردات کے بعد معلوم ہوا کہ میرے بینک اکاؤنٹ میں فراڈ ہوچکا ہے حالانکہ اس میں نہ تو کارڈ استعمال ہوا اور نہ ہی کوئی کوڈ، بلکہ میرے فنگر پرنٹس استعمال کیے گئے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر بار غلطی صرف صارف کی نہیں ہوتی، بعض اوقات اداروں کے اندر سے بھی معلومات لیک ہوسکتی ہیں، اس لیے ہر شخص کو بہت زیادہ احتیاط کرنے کی ضرورت ہے۔

ماہرین کے مطابق اس قسم کے فراڈ میں “سوشل انجینئرنگ” کی تکنیک استعمال کی جاتی ہے، جس کے ذریعے صارفین کو قائل کرکے ان سے پاس ورڈ، او ٹی پی اور دیگر حساس معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔

حیران کن طور پر بعض کیسز میں صارف کا کارڈ یا کوڈ استعمال نہیں ہوتا بلکہ بائیومیٹرک معلومات جیسے انگوٹھے کے نشانات تک استعمال کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

بینکنگ حکام کے مطابق ایسے واقعات کی صورت میں صارفین فوری طور پر شکایت درج کروائیں، جس کیلیے بینکوں نے اینٹی فراڈ یونٹس قائم کر رکھے ہیں جو فوری تحقیقات کے بعد 30 دن کے اندر متاثرہ رقم کی واپسی کے عمل کو ممکن بناتے ہیں۔

سائبر ماہرین نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی سختی سے ہدایت کی ہے کہ سب سے پہلے کسی بھی صورت اپنا او ٹی پی کسی سے شیئر نہ کریں۔

مشکوک کال موصول ہونے پر فوراً کال بند کرکے خود بینک سے رابطہ کریں۔ پاس ورڈز کو محفوظ اور دستی طریقے سے رکھیں۔ غیر ضروری طور پر بائیو میٹرک یا فیس آئی ڈی کا استعمال محدود کریں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید سائبر فراڈ کسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے، اس لیے عوام کو ہر وقت چوکس رہنے کی ضرورت ہے تاکہ مالی نقصان سے بچا جاسکے۔

موبائل فون کی یہ پوشیدہ سیٹنگ آپ کا ’’بینک اکاؤنٹ خالی‘‘ کرا سکتی ہے

spot_imgspot_img