کیا آپ نے کبھی سنا ہے کہ کسی عمارت کا علاج بھی کیا جا سکتا ہے؟ جی ہاں!! لاہور کے تاریخی شاہی قلعے کی تقریباً 400 سال پرانی پکچر وال کا باقاعدہ ’علاج‘ کیا گیا اور اس پر 8 سال تک کام جاری رہا۔
ویسے تو عام طور پر علاج انسانوں کا کیا جاتا ہے مگر 8 برس تک جاری رہنے والے اس منفرد تحفظاتی منصوبے میں ماہرین نے تاریخی دیوار کو ایک مریض کی طرح سمجھ کر اس کے مسائل اور خرابیوں کی تشخیص کی اور پھر سائنسی بنیادوں پر ان کا حل بھی تلاش کیا۔

لاہور قلعہ کے پکچر وال پراجیکٹ کی ماہرِ تعمیرات اور کنزرویشن آرکیٹیکٹ زینا نصیر نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں تحفظ کے نام پر اکثر پرانی اور تاریخی عمارتوں کو گرا کر نئے سرے سے تعمیر کر دیا جاتا ہے، جس سے ان کی تاریخی حیثیت اور اصل شناخت متاثر ہوتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ شاہی قلعے کی پکچر وال کے منصوبے میں اس روایت سے ہٹ کر اصل مواد اور تاریخی آثار کو محفوظ رکھنے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
تحفظاتی ٹیم نے دیوار پر موجود ٹائل ورک، فریسکو پینٹنگز، اینٹوں، مٹی، پانی اور تعمیراتی مواد کے نمونے حاصل کرکے ان کا تفصیلی سائنسی تجزیہ کیا اور یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ عمارت کے مختلف حصے کیوں خراب ہو رہے ہیں اور ان مسائل کا مستقل حل کیا ہو سکتا ہے؟۔
شاہی قلعے کی یہ تاریخی دیوار تقریباً 1600 فٹ لمبی ہے اور اس پر مغلیہ دور کا شاندار فنِ تعمیر آج بھی موجود ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ماہرین نے دیوار کو نیا بنانے کے بجائے اس کی اصل شکل اور تاریخی شناخت کو برقرار رکھنے پر توجہ دی ہے۔

اس منصوبے میں صرف دیوار کی سطحی مرمت نہیں کی گئی بلکہ بارش کے بعد نکاسی آب کے نظام کو بھی بہتر بنایا گیا ہے تاکہ مستقبل میں دیوار کو نمی اور پانی سے ہونے والے نقصانات سے بچایا جاسکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تحفظ کا مقصد تاریخی عمارت کو نیا بنانا نہیں بلکہ اس کی اصل حالت کو برقرار رکھتے ہوئے اس کی عمر بڑھانا ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اس منصوبے میں صرف انہی حصوں کی مرمت کی گئی جن کے بارے میں تاریخی شواہد موجود تھے، جبکہ اندازوں یا قیاس آرائیوں کی بنیاد پر کوئی نئی تعمیر نہیں کی گئی۔



