جیکب آباد : پولیس نے نکاح پر نکاح کرانے والے بارہ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ، مقدمے میں لڑکی کے والد،چار رشتے دار،نکاح خواں ،گواہ اور دلہا کو نامزد کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق جیکب آباد مین تحصیل ٹھل کی اے سیکشن پولیس نے سندھ ہائی کورٹ لاڑکانہ بینچ کے حکم پر نکاح پر نکاح کرانے والے 12 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔
مقدمہ سابقہ شوہر نعیم احمد سرکی کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے، جس نے مؤقف اختیار کیا کہ اس نے ثناء سرکی سے 31 مئی 2025 کو حیدرآباد کی سیشن کورٹ میں پسند سے نکاح کیا تھا۔
مدعی نے بتایا کہ بیوی کو والدین کی ناراضی پر میکے میں رہنے کی اجازت دی تھی، تاہم بعد ازاں 10 جون 2025 کو رائس بلاول نوناری کی رہائش گاہ پر ثناء سرکی کا دوبارہ نکاح عزیز احمد سرکی سے کرا دیا گیا۔
پولیس کا کہنا تھا کہ مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 494 کے تحت درج کیا گیا ہے۔ مقدمے میں لڑکی کے والد اسعد اللہ سرکی، چچا محمد ابراہیم سرکی، عمران سرکی، عبید اللہ سرکی، رشتہ دار بدردین سرکی، سیف اللہ سرکی، نکاح خواں مولوی سید باسط شاہ، گواہان رائس بلاول نوناری اور حافظ علی، جبکہ دولہا عزیز احمد سرکی کو نامزد کیا گیا ہے۔
مدعی نے نکاح پر نکاح کے اس واقعے کو سندھ ہائی کورٹ لاڑکانہ بینچ میں چیلنج کیا تھا، جس کے حکم پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کیا۔



