spot_img

ذات صلة

جمع

شہزادی نادرہ بیگم : شاہی محل سے جلاوطنی تک، المناک تاریخی داستان

لاہور میں مدفون مغل سلطنت کی شہزادی نادرہ بانو...

سولر پینلز کی قیمتیں گرگئیں!

کراچی : شہر قائد میں سولر سسٹمز کی قیمتوں...

برطانیہ میں رہائش کے خواہش مندوں کیلیے اہم خبر

لندن : برطانوی حکومت نے نئے ایمیگریشن اور پناہ...

پاکستان میں نئی ایئرلائن کو سرٹیفکیٹ جاری، جلد فلائٹ آپریشن شروع

کراچی: نئی نجی ایئرلائن ساؤتھ ایئر کو سی اےاے...

شہزادی نادرہ بیگم : شاہی محل سے جلاوطنی تک، المناک تاریخی داستان

لاہور میں مدفون مغل سلطنت کی شہزادی نادرہ بانو بیگم کی یہ المناک داستان ہے جو ملکہ بن سکتی تھی مگر اسے گمنامی کی موت نصیب ہوئی۔

حضرت میاں میرؒ کے مزار کے قریب واقع ایک قدیم اور خستہ حال مقبرہ مغل دور کی ایک ایسی شہزادی کی یاد تازہ کرتا ہے جس کی زندگی شاہی جاہ و جلال، لازوال محبت، قربانی اور المناک انجام کی داستان اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔

یہ مقبرہ مغل شہنشاہ شاہجہان کے بھتیجے شہزادہ دارا شکوہ کی اہلیہ نادرہ بانو بیگم کا ہے، جو تاریخ کے صفحات میں اکثر اپنے شوہر کے تذکروں کے پس منظر میں گم ہو جاتی ہیں۔

تاریخی روایات کے مطابق نادرہ بانو بیگم مغل شہنشاہ شاہجہان کی بہو اور ان کے بھائی سلطان پرویز کی صاحبزادی تھیں۔

وہ شاہی خاندان کی نہایت تعلیم یافتہ، نفیس اور باوقار شہزادی سمجھی جاتی تھیں، ان کی شادی اپنے چچا زاد بھائی شہزادہ دارا شکوہ سے ہوئی، جو شاہجہان کے محبوب ترین بیٹے اور ولی عہد تصور کیے جاتے تھے، ان کی شادی پر اس زمانے کے 32 لاکھ روپے کے اخراجات آئے جو آج کے دور میں 30ارب روپے بنتے ہیں۔

ان کی موت انتہائی کسمپرسی کی حالت میں ہوئی نہ رہنے کا کوئی ٹھکانہ نہ کھانے کیلیے دانے، اگر وقت ان کا ساتھ دیتا تو وہ ملکہ ہند بھی بن سکتی تھیں لیکن شاید قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

مؤرخین کے مطابق دارا شکوہ علم، ادب اور تصوف سے گہری دلچسپی رکھتے تھے اور انہوں نے دیگر مغل شہزادوں کے برعکس صرف نادرہ بانو بیگم سے شادی کی۔ دونوں کی ازدواجی زندگی محبت اور ہم آہنگی کی مثال سمجھی جاتی تھی۔

Nadira Begum

تاہم مغل سلطنت میں تخت و تاج کی جنگ نے اس خوشحال زندگی کا رخ بدل دیا، اورنگزیب اور دارا شکوہ کے درمیان اقتدار کی کشمکش میں دارا شکوہ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد ان کے خاندان پر مشکلات کے دروازے کھل گئے۔

1659ء میں دارا شکوہ کو جان بچانے کے لیے سندھ اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پناہ لینا پڑی۔ اس کٹھن سفر اور مسلسل ذہنی دباؤ کے دوران نادرہ بانو بیگم شدید علیل ہوگئیں۔

شوہر کے ساتھ وفاداری نبھاتے ہوئے انہوں نے جلاوطنی کے پورے سفر میں دارا شکوہ کا ساتھ نہیں چھوڑا، تاہم بیماری کے باعث اسی دوران ان کا انتقال ہوگیا۔

نادرہ بانو بیگم حضرت میاں میرؒ کی عقیدت مند تھیں اور اپنی زندگی کے آخری ایام میں انہوں نے خواہش ظاہر کی تھی کہ انہیں لاہور میں صوفی بزرگ کے مزار کے قریب دفن کیا جائے۔

دارا شکوہ نے انتہائی دشوار حالات کے باوجود ان کی میت لاہور منتقل کرائی اور ان کی آخری خواہش کے مطابق حضرت میاں میرؒ کے مزار کے نزدیک سپردِ خاک کیا گیا۔

تاریخی حوالوں کے مطابق نادرہ بانو بیگم کی وفات نے دارا شکوہ کو شدید صدمے سے دوچار کر دیا، چند ہفتوں بعد وہ خود بھی گرفتار کر لیے گئے اور بعد ازاں انہیں قتل کر دیا گیا۔

وقت گزرنے کے ساتھ نادرہ بانو بیگم کا مقبرہ بھی زوال کا شکار ہوتا گیا، سکھ اور برطانوی ادوار میں مقبرے کو نقصان پہنچا اور اس میں نصب قیمتی پتھر اکھاڑ لیے گئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد بھی تاریخی ورثے کی عدم توجہی کے باعث یہ یادگار مناسب تحفظ سے محروم رہی۔

مقامی افراد کے مطابق ایک وقت ایسا بھی آیا جب مقبرہ کھنڈر کا منظر پیش کرنے لگا، اس کے اطراف بچے کھیلتے رہے جبکہ بعض اوقات غیر متعلقہ سرگرمیوں نے بھی اس تاریخی مقام کو متاثر کیا۔

حالیہ برسوں میں مقبرے کی بحالی اور تحفظ کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں، تاہم ماہرین آثارِ قدیمہ کے نزدیک یہ کوششیں اب بھی ناکافی ہیں۔

اگرچہ صدیوں کی بے توجہی نے اس مقبرے کی سابقہ شان و شوکت کو ماند کر دیا ہے، لیکن نادرہ بانو بیگم کی قبر آج بھی اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ اقتدار اور سلطنتیں وقت کے ساتھ مٹ جاتی ہیں، جبکہ محبت، وفاداری اور قربانی کی داستانیں تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔

 

spot_imgspot_img