spot_img

ذات صلة

جمع

رات 11 کے بعد سونا : ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

جدید طرزِ زندگی میں موبائل فون اور اسکرین کے بے دریغ استعمال نے لوگوں کی نیند کا معمول بری طرح متاثر کیا ہے، رات کو 11 بجے کے بعد سونے سے صحت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ 

ماہرین صحت خبردار کرتے ہیں کہ اگر آپ باقاعدگی سے رات 11 بجے کے بعد سوتے ہیں تو یہ عادت مستقبل میں ذیابیطس، امراضِ قلب اور دیگر جسمانی و ذہنی مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق صحت مند زندگی کے لیے روزانہ کم از کم 7 سے 9 گھنٹے کی معیاری نیند ناگزیر ہے۔ نیند کے دوران جسم اور دماغ اپنی مرمت کرتے ہیں، زہریلے مادوں کے اخراج کا عمل بہتر ہوتا ہے اور ہارمونز متوازن رہتے ہیں۔ ناکافی یا غیر معیاری نیند دن بھر کی سستی، چڑچڑاپن اور کمزور توجہ کا باعث بنتی ہے۔

برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کے مطابق دل کی صحت برقرار رکھنے کے لیے رات 10 سے 11 بجے کے درمیان سونا زیادہ بہتر سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 11 بجے کے بعد سونے سے جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) متاثر ہوتی ہے، جس سے بلڈ پریشر، شوگر لیول اور دل کی دھڑکن کے نظام پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ طویل مدت میں یہ عادت امراضِ قلب کے خطرے میں اضافہ کرسکتی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق دیر سے سونے والے افراد عموماً رات گئے غیر صحت بخش اسنیکس کھاتے ہیں، جس سے وزن بڑھنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ میٹابولزم کی رفتار سست پڑ جاتی ہے اور ہاضمہ خراب ہوسکتا ہے۔ نتیجتاً توانائی کی سطح کم اور تھکن میں اضافہ ہوتا ہے۔

رات گئے تک جاگنا دماغ کو مکمل آرام کا موقع نہیں دیتا۔ اس سے تناؤ، اضطراب اور موڈ میں اتار چڑھاؤ بڑھ سکتا ہے۔ طلبہ اور ملازمت پیشہ افراد میں توجہ کی کمی اور کارکردگی میں گراوٹ بھی اسی کا نتیجہ ہوسکتی ہے۔

مسلسل نیند کی کمی مدافعتی نظام کو کمزور کرسکتی ہے، جس کے باعث نزلہ، زکام اور دیگر بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ قبل موبائل اور دیگر اسکرینز کا استعمال محدود کردیا جائے اور باقاعدہ سونے اور جاگنے کا وقت مقرر کیا جائے۔

ماہرین صحت نے احتیاطی تدابیر اپنانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ روزانہ ایک ہی وقت پر سونے اور جاگنے کی عادت اپنائیں، سونے سے پہلے کیفین اور بھاری غذا سے پرہیز کریں، اسکرین ٹائم کم کریں، سونے کا ماحول پرسکون اور تاریک رکھیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ معمولی سی احتیاط آپ کو مستقبل کی بڑی بیماریوں سے بچا سکتی ہے۔

نیند پوری نہ ہونے سے دماغ خود کو کھانا شروع کردیتا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ : مندرجہ بالا تحریر معالج کی عمومی رائے پر مبنی ہے، کسی بھی نسخے یا دوا کو ایک مستند معالج کے مشورے کا متبادل نہ سمجھا جائے۔

spot_imgspot_img