کراچی : ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما حیدر عباس رضوی نے انکشاف کیا ہے کہ اب تک ان پر پانچ مرتبہ قاتلانہ حملے ہوچکے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی خصوصی عید ٹرانسمیشن کے پروگرام میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما حیدر عباس رضوی نے بتایا کہ مخالفین کی جانب سے ان کی جان لینے کوشش کیسے کی گئی۔
ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پہلا حملہ اس وقت پیش آیا جب وہ اپنے بھائی کے ہمراہ میوہ شاہ قبرستان گئے تھے تاکہ بچوں کو اپنے بزرگوں کی قبریں دکھا سکیں۔
انہوں نے بتایا کہ یہ واقعہ 15 شعبان شب برات کے دن کے وقت پیش آیا، جب وہ اپنے بھائی اور بچوں کے ساتھ قبرستان سے واپس آ رہے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ جیسے ہی وہ پاک کالونی کی سڑک پر پہنچے تو ان کی گاڑی پر اچانک فائرنگ شروع ہوگئی، اس موقع پر ان کی سیکیورٹی کے لیے پولیس موبائل بھی ان کے ساتھ موجود تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ فائرنگ کے دوران میں نے اپنے ڈرائیور کو ہدایت دی کہ سامنے موجود رکشے کو ہلکا سا ٹکر مار کر راستہ بنائے تاکہ وہ بچ کر نکل سکیں۔ اس دوران زیادہ تر گولیاں پولیس موبائل کو لگیں، جس کے نتیجے میں تین اہلکار زخمی ہوگئے۔
اس موقع پر پولیس کی جانب سے بھی جوابی فائرنگ کی گئی، جس کے بعد ہم عباسی شہید اسپتال پہنچنے میں کامیاب ہوئے، بعد ازاں پارٹی کی جانب سے بلٹ پروف گاڑی فراہم کی گئی۔
شہر میں ڈکیتی کی وارداتوں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وہ خود بھی ڈکیتی اور گاڑی چھیننے جیسے واقعات کا شکار ہوچکے ہیں، انہوں نے بتایا کہ ان کی گاڑی دو مرتبہ اسلحہ کے زور پر چھینی گئی، ایک واقعے میں ان کا ڈرائیور بھی تشدد کا نشانہ بنا۔
کینیڈا میں حیدر عباس رضوی کو ٹیکسی چلاتا دیکھ کر پاکستانی لڑکی نے کیا کہا؟



