اسلام آباد : بیرونِ ملک ہوسٹ کی گئی سرکاری ویب سائٹس کو پاکستان منتقل کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا، سرکاری ویب سائٹس اور ایپلی کیشنز کی مقامی ڈیٹا سینٹرز میں منتقلی کا منصوبہ تیار ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق حکومتِ پاکستان نے ملک کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو محفوظ اور خودمختار بنانے کے لیے ایک انقلابی فیصلہ کرتے ہوئے کہا بیرونِ ملک ہوسٹ کی گئی تمام سرکاری ویب سائٹس اور ایپلی کیشنز کو اب پاکستان منتقل کیا جائے گا۔
اس سلسلے میں نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے ایک جامع “پاکستان انفارمیشن سکیورٹی فریم ورک” تیار کر لیا ہے۔
دستاویزات میں کہا گیا کہ نئے اقدامات کا بنیادی مقصد سرکاری ڈیجیٹل نظام کی سکیورٹی اور خودمختاری کو مضبوط بنانا ہے. تمام سرکاری ویب سائٹس اور ایپلی کیشنز کو مقامی ڈیٹا سینٹرز میں منتقل کرنے کا تفصیلی منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے۔
نئے فریم ورک کے تحت مقامی ڈیٹا سینٹرز کو جدید ترین حفاظتی نظام سے لیس کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے جبکہ ڈیٹا سینٹرز میں جدید فائر والز، سائبر نگرانی کا نظام، اور سکیورٹی آپریشنز سینٹر کا نفاذ لازمی ہوگا۔
اس کے علاوہ تمام سرکاری اداروں کو اپنے ڈیٹا کا سکیور بیک اپ رکھنا ہوگا اور سالانہ بنیادوں پر تھرڈ پارٹی سکیورٹی آڈٹ کرانا ہوگا۔
تمام سرکاری ویب ایپلی کیشنز کو سکیور سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے اصولوں پر تیار کیا جائے گا اور ان کی باقاعدہ پینیٹریشن ٹیسٹنگ کر کے خامیوں کا ازالہ کیا جائے گا۔
سرکاری خط و کتابت کو ہیکنگ اور سائبر حملوں سے بچانے کے لیے ای میل سسٹمز میں تبدیلیاں کی جائیں گی، جس کے تحت سرکاری ای میل سروسز کے لیے فشنگ ، اسپام اور مال ویئر سے تحفظ کے فول پوش انتظامات لازمی ہوں گے۔
ویب میل تک رسائی کے لیے ملٹی فیکٹر تصدیق (MFA) کا نظام نافذ کرنا ضروری ہوگا جبکہ ای میل سسٹمز میں بیک اپ، آرکائیونگ اور ڈومین تصدیقی ٹیکنالوجیز کا نفاذ لازمی قرار دیا گیا ہے۔
سرکاری ڈیٹا سینٹرز کی جسمانی سکیورٹی کے لیے بھی سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں ،جس میں کہا کہ ڈیٹا سینٹرز میں بیک اپ پاور، ہیوی جنریٹرز اور ماحول کی مسلسل نگرانی کے انتظامات لازمی ہوں گے۔
ڈیٹا سینٹرز کو آگ، سیلاب اور دیگر ماحولیاتی خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے خصوصی اقدامات کا حکم دیا گیا ہے۔



