شوبز انڈسٹری کی سینئر اداکارہ حنا خواجہ بیات نے والدہ کا زندگی بچانے والا مشورہ بتا دیا ہے۔
حنا خواجہ بیات نے اپنے مرحوم شوہر اور اپنے سنبھلنے کے سفر کو یاد کیا اور بتایا کہ کس طرح ان کی والدہ کے دانشمندانہ الفاظ ان کے مشکل وقت میں امید کا ذریعہ بنے۔
حالیہ پوڈ کاسٹ انٹرویو کے دوران سینئر اداکارہ نے بتایا کہ والدہ کی کہی ہوئی دانشمندانہ باتوں نے انہیں زندگی کا ایک نیا مقصد تلاش کرنے میں مدد دی، والدہ کا ماننا تھا کہ زندگی کا مقصد لازمی نہیں کہ تلاش کرنے سے ملے بلکہ اگر انسان کی نیت اچھے کام کرنے کی ہو تو یہ مقصد خود بخود سامنے آجاتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ الفاظ ان کی والدہ نے والد کے جنازے کے دن کہے تھے، انہوں نے یاد کرتے ہوئے کہا کہ اللہ نے آپ کے لیے جو بھی زندگی لکھی ہے آپ کو اسے جینا ہے، اور شکرگزاری کے ساتھ جینا سیکھنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان الفاظ نے ایک بار پھر ان کے دل پر گہرا اثر چھوڑا، جس نے بقا اور خوشی کے بارے میں ان کے نقطہ نظر کو بدل دیا، زندگی آپ کو سکھاتی ہے، آپ کو بس اپنے اندر قبول کرنے کی صلاحیت پیدا کرنی ہوگی، اللہ جو کچھ آپ کی طرف بھیج رہا ہے اسے قبول کریں اور زندگی خوشگوار ہوجاتی ہے۔
حنا نے کہا کہ انسان کی موجودہ مشکلات ایک طویل سفر کا محض ایک مشکل حصہ ہوتی ہیں، وقت بدلتا ہے یہ کبھی ایک جیسا نہیں رہتا۔ اگر آپ کسی مشکل دور سے گزر رہے ہیں تو یاد رکھیں کہ آپ کی منزل کیا ہے، یہ صرف ایک راستہ ہے، کبھی راستہ ہموار ہوگا، کبھی مشکل ہوگا لیکن راستے یا صحیح راستے کو مت چھوڑیں، اپنے خالق پر یقین رکھیں۔ وہ آپ کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔
Lifestyle News – Latest Entertainment News, Celebrity Gossip
انہوں نے کہا کہ زیادہ مت سوچیں، اگر آپ کا ارادہ صحیح راستے پر چلنے کا ہے تو آپ جس بھی شعبے میں ہیں اپنا کام ایمانداری سے کریں، اپنے رشتوں میں ایمانداری رکھیں، دینے والے بنیں، مہربان رہیں، آپ اپنا مقصد پورا کر رہے ہوں گے اور آپ کو اندازہ بھی نہیں ہوگا۔
اداکارہ نے کہا کہ عورت کی بااختیاری کے لیے اس کا ذہنی طور پر ترقی یافتہ ہونا بہت ضروری ہے انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم کا مطلب صرف یہ نہیں کہ کام کرنا اور کمانا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے اپنے اردگرد کے ماحول کو بدلنا ہے اور اپنے گھر کے لوگوں پر اثر انداز ہونا ہے۔
حنا نے نوجوان نسل میں کتابیں پڑھنے کی عادت میں کمی کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ کہ تخیل اور جذباتی گہرائی کی پرورش گھر سے شروع ہوتی ہے، میری والدہ کہتی تھیں کہ اگر آپ کتابوں کے دوست ہیں تو زندگی آپ کو ان مقامات پر لے جاتی ہے جہاں آپ جسمانی طور پر نہیں جا سکتا، میرے خیال میں یہ ہماری تربیت کا حصہ تھا اور یہ والدین کا کام ہے اسکول کا نہیں۔
اداکارہ نے مزید کہا کہ خاص طور پر جوان عورتوں کے لیے یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ اپنی خامیوں کو قبول کرنا انتہائی اہم ہے۔



