گوبر یا فضلہ جانوروں کی انواع کو بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے، اس حوالے سے آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ریسرچ کی ہے۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے چیسٹر چڑیا گھر میں ہاتھوں اور زرافوں کے فضلے سے زندہ خلیے الگ کرکے اس حوالے سے ایک زبردست تحقیق کی ہے، تحقیق دانوں کا ہدف ان زندہ خلیوں کو محفوظ کرنا ہے۔
اس اقداما کا مقصد یہ ہے کہ مستقبل میں ان جانوروں کی نسل بچانے کےلیے استعمال کیا جاسکے، ان خلیات کو گندگی اور بیکٹریا سے الگ کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔
تاہم سائنسدان کامیابی سے یہ عمل انجام دینے کے قابل ہیں، طویل المدتی منصوبہ یہ ہے کہ ان خلیات سے اسٹیم سیلز بنائے جائیں۔
ان اسٹیم سیلز سے لیبارٹری میں انڈے یا اسپرم تیار کیے جاسکیں، سب سے اچھی بات یہ ہے کہ طریقہ کار کے تحت جانورں کو کوئی تکلیف نہیں پہنچتی۔
یہ بات قبل ذکر ہے کہ جنگلی جانورں پر بھی اسے کامیابی سے استعمال کیا جاسکتا ہے، یہ طریقہ معدومیت کے خطرے سے دوچار انواع کی بقا کےلیے نئی امید لے کر آیا ہے۔



