اکثر مائیں اس بات پر شدید تشویش کا شکار نظر آتی ہیں کہ ان کے بچے کھانا کھانے میں دلچسپی نہیں لیتے اور زیادہ تر جنک فوڈ جیسے چاکلیٹ، ٹافیاں اور چپس وغیرہ کھانے کو ترجیح دیتے ہیں۔
تاہم طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بچے کے کھانا نہ کھانے مسئلہ ہر صورت تشویش کا باعث نہیں ہوتا بلکہ اکثر بچوں کی صحت ان کی عمر اور وزن کے مطابق درست ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق والدین کی ایک بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کا موازنہ دوسرے بچوں سے کرتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر بچے کی جسمانی ساخت، پسند و ناپسند اور نشوونما مختلف ہوتی ہے، جس پر جینیاتی اور ماحولیاتی عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ بچوں کے کھانے کے معمولات کو انفرادی بنیاد پر سمجھا جائے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ چھ ماہ سے ایک سال تک کے بچوں کو ٹھوس غذا صرف اس وقت دینی چاہیے جب وہ بھوکے ہوں، اور انہیں ہلکی اور آسانی سے ہضم ہونے والی غذائیں جیسے دلیا، کھچڑی اور کسٹرڈ دی جائیں۔
اسی طرح دو سال سے بڑے بچوں میں کھانا کھانے کی دلچسپی پیدا کرنے کے لیے رنگ برنگے اور دلچسپ انداز میں کھانا پیش کرنا مفید ثابت ہوتا ہے۔
ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں کے لیے کھانے کے اوقات مقرر کیے جائیں اور انہیں غیر صحت بخش اسنیکس جیسے بازاری چپس اور بسکٹ کی عادت نہ ڈالی جائے۔
ساتھ ہی والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے سامنے منفی جملے دہرانے سے گریز کریں، بلکہ پیار اور حوصلہ افزائی کے ذریعے انہیں کھانے کی طرف راغب کریں۔
ماہرین کے مطابق جن بچوں کی جسمانی نشوونما متاثر ہو رہی ہو، ان کے لیے فوری طور پر معالج سے رجوع کرنا ضروری ہے۔ بصورت دیگر، معمولی کم کھانا اکثر بچوں کی فطری عادت کا حصہ ہوتا ہے اور وقت کے ساتھ بہتر ہو جاتا ہے۔



