spot_img

ذات صلة

جمع

بربادیوں کا جشن : کانگریس خاتون رہنما کی مودی پر کڑی تنقید، ویڈیو وائرل

نئی دہلی : بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس کی ترجمان سپریا شرینیت نے امریکہ بھارت تجارتی معاہدے پر مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک ویڈیو بیان میں ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی اور نریندر مودی اس معاہدے کو کامیابی قرار دے کر دراصل “بربادیوں کا جشن” منا رہے ہیں۔

انہوں نے مودی سرکار پر شدید تنقید کرتے ہوئے ایک معروف شعر کے مصرعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’بربادیوں کا جشن مناتا چلا گیا‘‘ آج یہی طرزِ عمل نریندر مودی اور بی جے پی کے رہنما کر رہے ہیں جو18 فیصد ٹیرف پر مبنی اس تجارتی معاہدے پر جشن منا رہے ہیں حالانکہ اس سے قبل امریکہ بھارت پر اوسطاً تین فیصد سے بھی کم ٹیرف عائد کرتا تھا۔

یہ بیان انہوں نے امریکہ بھارت تجارتی معاہدے کے بعد مودی حکومت اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے خوشی کے اظہار کے تناظر میں دیا۔

ترجمان کانگریس سپریا شرینیت نے کہا کہ اس معاہدے پر صرف بیوقوف لوگ خوش ہو سکتے ہیں کیونکہ یہ یکطرفہ، غیرمنصفانہ اور بھارت کے معاشی مفادات کے لیے شدید نقصان دہ ہے۔

اپنے ویڈیو بیان میں ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی کے رہنماؤں کی جانب سے بھارت امریکا معاہدے کو درست قرار دینا اس ملک سے غداری کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو جشن مناتے دیکھ کر انہیں کوئی حیرت نہیں ہوئی، کیونکہ یہ “ملک مخالف سوچ” رکھنے والوں کا گروہ ہے۔

انہوں نے اس معاہدے سے متعلق کئی اہم سوالات بھی اٹھائے، جن میں کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کی طرح اس تجارتی معاہدے کا اعلان سب سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیوں کیا؟

جب پہلے بھارت پر تین فیصد سے کم ٹیرف عائد تھا تو اب 18 فیصد ٹیرف کو کامیابی کیسے کہا جا سکتا ہے؟

جن امریکی مصنوعات پر بھارت 30 سے 100 فیصد ٹیرف لیتا تھا، ان پر صفر ٹیرف لگانا کس طرح بھارت کے مفاد میں ہے؟

کیا بھارت نے امریکی منڈی کے لیے اپنا بازار مکمل طور پر کھولنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے، اور اس صورت میں ملکی صنعت اور تاجروں کا تحفظ کیسے ممکن ہوگا؟

زیادہ امریکی مصنوعات کی خریداری سے ’میڈ اِن انڈیا‘ اور ملکی مینوفیکچرنگ کا مستقبل کیا ہوگا؟

امریکہ کو یہ حق کس نے دیا کہ وہ یہ فیصلہ کرے کہ بھارت روس سے تیل خریدے یا نہیں؟ اور ایران کے چابہار بندرگاہ میں بھارت کی موجودگی پر فیصلے کا اختیار امریکہ کو کیوں دیا جا رہا ہے؟

نریندر مودی نے یہ معاہدہ اس قدر جھک کر اور قومی مفادات کے برعکس کیوں کیا؟

کانگریس ترجمان کے مطابق یہ معاہدہ بھارت کی خودمختاری، معیشت اور کسانوں کے مفادات کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔

 

spot_imgspot_img