spot_img

ذات صلة

جمع

5 سال میں 8 انتخابات : بلغاریہ میں شدید سیاسی بحران کی کہانی

صوفیہ : یورپی ملک بلغاریہ طویل عرصے سے سیاسی...

باسط علی نے شان مسعود سے معافی مانگ لی

کراچی : سابق کرکٹر باسط علی نے قومی ٹیم...

اسلام آباد کے ہائیکنگ ٹریلز بند، نوٹیفکیشن جاری

اسلام آباد (20 اپریل 2026) : ضلعی انتظامیہ نے...

زیادہ اسکرین ٹائم آپ کے بچے کو کس طرح متاثر کررہا ہے؟

لندن : ایک حالیہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے...

اسرائیل اب بھی ایران کیساتھ حالتِ جنگ میں ہے، نیتن یاہو

(20 اپریل 2026): اسرائیلی وزیر اعطم نیتن یاہو کا...

ایرانی ریال کی خریداری : سرمایہ کار اس بات کا لازمی خیال رکھیں

کراچی : امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران کرنسی مارکیٹ میں ایک غیر معمولی رجحان سامنے آیا ہے، جہاں شہری ڈالر یا دیگر غیر ملکی کرنسیوں کے بجائے ایرانی ریال کی خریداری میں دلچسپی لے رہے ہیں۔

مارکیٹ اعداد و شمار کے مطابق جنگ سے قبل ایک کروڑ ایرانی ریال تقریباً 2 ہزار 500 پاکستانی روپے میں دستیاب تھے، تاہم حالیہ دنوں میں یہی رقم بڑھ کر 10 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے۔ اس طرح ایرانی ریال کی قدر میں چار گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک بوستان نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ متعدد سرمایہ کار اس امید پر ایرانی ریال خرید رہے ہیں کہ مستقبل میں اس کی قیمت مزید بڑھے گی اور انہیں نمایاں منافع حاصل ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں یا ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی آتی ہے تو ایرانی ریال کی قدر میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

ملک بوستان نے عوام کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ محض قیاس آرائیوں پر سرمایہ کاری سے گریز کیا جائے، کیونکہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ ایرانی ریال کی قدر جلد یا یقینی طور پر بڑھے گی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ جب کسی کرنسی کی قدر میں بڑی تبدیلی آتی ہے تو متعلقہ ملک اکثر بڑی مالیت کے نوٹ منسوخ کردیتا ہے، جس کے نتیجے میں ذخیرہ کی گئی کرنسی بے کار ہوسکتی ہے۔

ان کے مطابق پاکستانی برآمد کنندگان ایران کو بھیجے گئے سامان کے بدلے اب ایرانی ریال وصول کر رہے ہیں، جسے بعد ازاں مقامی مارکیٹ میں فروخت کیا جاتا ہے، جبکہ درآمد کنندگان ایران سے سامان منگوانے کے لیے ریال خرید رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر یقینی حالات میں کرنسی سرمایہ کاری احتیاط اور مکمل معلومات کے بغیر خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں‌ ایران کے ریال کی قدر بڑھ گئی

spot_imgspot_img