ایران پر مسلط جنگ روکنے کےلیے پاکستان نے فریقین کے درمیان ثالثی میں اہم کردار ادا کیا۔
برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اتوار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کی جب کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے رابطہ کیا۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، مصری اور ترک وزیرخارجہ بھی امریکی نمائندے وٹکوف اور عراقی وزیرخارجہ عباس عراقچی سے رابطے میں تھے۔
برطانوی جریدے کے مطابق وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کےمذاکرات سے متعلق بیان کی تفصیلات نہیں بتائیں تاہم یہ کہا کہ سفارتی سطح پر بات چیت نہایت حساس معاملہ ہے۔
علاوہ ازیں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ایران اور ترکیہ کے وزرا خارجہ سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے خطے کی بگڑتی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ اسحاق ڈار نے امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کیلئے بات چیت اور سفارتکاری کی اہمیت پر زور دیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ مسائل کا حل صرف بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے، دونوں وزرائےخارجہ نےبدلتی صورتحال پر قریبی اور مسلسل رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
اسحاق ڈار نے اس سے پہلے ترک ہم منصب خاقان فدان سے فون پر گفتگو کی جس میں دونوں رہنماوں نے خطے کی مجموعی صورتحال اور حالیہ پیشرفت کا جائزہ لیا۔ امریکی صدرکےجنگ بندی میں عارضی وقفے کے اعلان پر بھی گفتگو ہوئی۔
ایران کے قابل احترام رہنما سے بات چیت
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران سے مذاکرات جاری رہنے کا دعویٰ کر دیا۔
واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو میں امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ تنازع کے حل کیلئے پُرعزم ہیں ایران ڈیل کرنا چاہتا ہے اور ایران کے قابل احترام رہنما سے بات چیت جاری ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ مشرقی وسطیٰ میں جنگ کے مکمل اور حتمی حل سے متعلق انتہائی نتیجہ خیز گفتگو ہوئی ہے تفصیلی اور تعمیری بات چیت پورے ہفتے جاری رہے گی اُمید ہے ایران کے مسئلےکو حل کیا جاسکتا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی ضمانت نہیں دے سکتا لیکن ہم اس پر کام کر رہے ہیں، پاور پلانٹس پر حملے ملتوی کیے جس کا دارومدار بات چیت کی کامیابی پر ہوگا، ایران معاہدہ چاہتا ہے اور ہم بھی۔۔ اگر کوئی معاہدہ طے پاجاتا ہے تو یہ ایران اور خطے کیلئے بہترین آغاز ہو گا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران پر بھی آج مذاکرات ہوں گے اور مذاکرات میں امریکا ایران کئی نکات پر رضامند ہیں، ایران نے جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
ایران کی تردید
دوسری جانب ایران نے ایک بار پھر دوٹوک تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کوئی مذاکرات نہیں ہوئے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے بیان میں کہا ہے کہ ٹرمپ کے بیانات توانائی کی قیمتیں کم کرنے کیلئے ہیں امریکی اقدامات خطےکی کشیدگی میں اضافےکاباعث ہیں جنگ کا آغاز امریکا اور اسرائیل کی جانب سے کیا گیا تھا۔
ایرانی میڈیا مہر نیوز کے مطابق مذاکرات کی تردید کے حوالے سے ایرانی وزارت خارجہ نے باضابطہ بیان جاری کیا ہے۔



