تہران : ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکا کی نام نہاد سیکیورٹی بری طرح ناکام ہوچکی ہے، وہ اب آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کیلئے دوسروں سے مدد مانگنے لگا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک پیغام میں ان کا کہنا ہے کہ امریکا آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کیلئے چین سے بھی مدد مانگ رہا ہے۔
عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا کا سیکیورٹی نظام خطرات روکنے کے بجائے مسائل کو دعوت دے رہا ہے، انہوں نے خلیجی برادر ممالک سے غیرملکی جارح قوتوں کو نکالنے کا مطالبہ کیا۔
Touted US security umbrella has proven to be full of holes and inviting rather than deterring trouble. US is now begging others, even China, to help it make Hormuz safe.
Iran calls on brotherly neighbors to expel foreign aggressors, especially as their only concern is Israel.
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) March 14, 2026
ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کا مزید کہنا تھا کہ خلیجی برادر ممالک میں غیر ملکی طاقتوں کی اصل ترجیح صرف اسرائیل کا تحفظ ہے۔
علاوہ ازیں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی خبر رساں ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے حوالے سے متعدد اہم نکات پر اظہارِ خیال کیا ہے۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ نے نئے سپریم لیڈر سے متعلق خبروں، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور خطے میں جاری حملوں کے بارے میں ایران کا مؤقف پیش کیا۔
نئے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے زخمی ہونے کی خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ جلد ہی واضح ہو جائے گا کہ اس حوالے سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نیا سپریم لیڈر اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں اور آئندہ بھی بدستور اپنے فرائض سرانجام دیتے رہیں گے۔
توانائی تنصیبات پر حملہ ہوا تو خطے میں امریکی کمپنیوں کو نشانہ بنائیں گے، ایران



