اسلام آباد : وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہوئی تو افغانستان میں گھس کر حملے کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ کابل کی پوری قیادت بھارت کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے، چار مرتبہ معاہدہ فائنل ہوا لیکن ہربار کابل نے انکار کیا۔ افغان طالبان مانتے ہیں ان کی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال ہوتی ہے لیکن تحریری طور پر معاہدہ نہیں کرنا چاہتے ہیں۔
ثالثی کرنے والے بھی کابل کی نیت کے فتور کو سمجھ گئے ہیں، کابل چاہتا ہی نہیں تھا کہ کوئی معاہدہ بے پائے۔
وزیردفاع نے کہا کہ افغانستان سلطنتوں کا نہیں بلکہ خود اپنے لوگوں کیلئے قبرستان رہا ہے اور ایسی جگہ ہے جہاں سلطنتوں نے اپنا کھیل کھیلا۔
پاکستان انہیں مکمل فنا کرنے اور غاروں میں دھکیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کیلئے اپنی عسکری طاقت کا ایک جزو بھی استعمال نہیں کرنا پڑے گا۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ پاکستان نے امن کو موقع دینے کے لیے بات چیت کی، مگر بعض افغان عہدیداروں کے زہریلے بیانات طالبان کے دھوکے باز اور منتشر ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں۔
طالبان اپنی چوری شدہ حکمرانی برقرار رکھنا چاہتے ہیں، رجیم کو معلوم ہونا چاہیے کہ انہوں نے ہماری ثابت قدمی اور جرات کا غلط اندازہ لگایا، پاکستان کے اندر کسی بھی دہشت گرد حملے یا کسی خودکش دھماکے کا کڑوا ذائقہ چکھایا جائے گا۔
وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا کہ چار مرتبہ معاہدہ فائنل ہوا لیکن ہربار کابل نے انکار کیا۔ افغان طالبان مانتے ہیں ان کی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال ہوتی ہے لیکن تحریری طور پر معاہدہ نہیں کرنا چاہتے ہیں۔
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ کابل مذاکرات میں کبھی مخلص نہیں تھا، جن کی نیت ہی ٹھیک نہیں ان پر بھروسہ کیسے کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چار مرتبہ معاہدہ فائنل ہوا لیکن ہر بار کابل نے انکار کیا، جب بھی کوئی حتمی معاہدہ تیار ہوتا تو وہ کابل فون کرتے ہیں جہاں سے نہیں میں جواب آتا تھا۔
افغان طالبان مانتے ہیں ان کی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال ہوتی ہے لیکن تحریری طور پر معاہدہ نہیں کرنا چاہتے ہیں، ثالث بھی کابل کی نیت کے فتور کو جان گئے ہیں، کابل چاہتا ہی نہیں تھا کوئی معاہدہ ہو۔
3ہزار لوگ پاکستان میں اس نیت سے داخل کرائے گئے کہ دہشت گردی کریں، ایسے لوگوں کے ساتھ کیا بات کریں جن کی ساری زندگی ہی یہاں گزری۔
پاکستان اورافغانستان کےدرمیان ایک سرحد موجود ہے جو حقیقت ہے، افغان طالبان رجیم اس سرحد کو کچھ بھی کہیں لیکن یہ ایک حقیقت ہے، پتہ نہیں افغان طالبان رجیم کو ڈیورنڈ لائن بہت یاد آرہی ہوتی ہے، ہم پڑوسی ہیں اور وہ خونریزی کررہے ہوتے ہیں جبکہ ہم نے میزبانی کی۔
وزیردفاع کا کہنا تھا کہ ایران خود افغان طالبان رجیم سے جان چھڑانا چاہتا ہے، ایران بڑی تیزی سے افغان شہریوں کو ڈی پورٹ کررہا ہے، ایران نے ایک سسٹم بنایا ہوا تھا جس کے تحت افغان شہریوں کا ریکارڈ تھا، ایران سسٹم کے تحت رجسٹرڈ افغان شہریوں کو ڈی پورٹ کررہا ہے۔
ماضی کی غلطی ہے کہ افغان شہریوں کیلئے سرحد کھول دی تھی، آج بھی ہمارےجوانوں کو شہید کیا گیا ہے تو کیا ہم خاموش بیٹھ جائیں، دوحہ میں تقریباً13،14گھنٹے بات چیت چلی، استنبول میں بھی 30 سے 40 گھنٹے بات چیت کی۔



