spot_img

ذات صلة

جمع

آبنائے ہرمز میں ٹول ٹیکس صرف امریکا نافذ کرسکتا ہے، صدر ٹرمپ

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا...

اسلام آباد : وزیراعظم وفد کے ہمراہ سوئٹزر لینڈ روانہ

اسلام آباد (21 جون 2026): امریکا اور ایران مذاکرات...

سرگن مہتا پاکستانی اداکاروں اور ڈراموں کی مداح نکلیں

بھارت کی اداکارہ سرگن مہتا پاکستانی اداکاروں اور ڈراموں...

اسلام آباد اسمبلی بننے سے کیا فائدہ ہوگا؟

اسلام آباد (20 جون 2026): وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ اسلام آباد اسمبلی بننے سے خرچہ بڑھے گا نہیں بلکہ بچے گا۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’اعتراض ہے‘ میں طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اسلام آباد ٹریٹری کے انتظام سے متعلق تجاویز زیر غور ہیں، وزیر اعظم کو ایک تجویز دی گئی کہ اسلام آباد کی اپنی اسمبلی ہونی چاہیے، شہباز شریف نے کہا ہے کہ اس رائے سے متعلق کھلی کچہریاں کریں، وفاقی دارالحکومت میں لوگوں سے ملاقات کریں گے اور ان سے ان کی رائے لیں گے۔

طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ اسلام آباد میں گاڑیوں کی رجسٹریشن کا ایک سال کا ٹیکس 15 سے 18 ارب روپے ہے، یہ سارا ٹیکس کا پیسہ وفاق کو جاتا ہے، یہ اسلام آباد کے عوام کا پیسہ ہے، شہر میں 80 سے 100 ارب روپے تک کا ٹیکس ریونیو جمع ہوتا ہے جو رہائشیوں پر لگنا چاہیے، کیونکہ صوبوں میں جمع ہونے والا ٹیکس صوبوں پر ہی لگتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا اسلام آباد کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کیلیے قانون سازی ہونے والی ہے؟

انہوں نے مزید بتایا کہ اسلام آباد میں جمع ہونے والا ٹیکس وفاقی حکومت کے پاس جاتا ہے، شہرِ اقتدار کی اسمبلی بن گئی تو صوبوں سے زیادہ شیئر وفاق کو ملے گا، خودمختار اسمبلی بننے سے عوام کے مسائل حل ہوں گے، اور رورل اور اربن تفریق بھی ختم ہو جائے گی۔

پروگرام میں اس سے قبل وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ صوبوں کی رقم سے متعلق فیصلہ پہلے ہی ہو چکا ہے، وزیر اعظم شہباز شریف سے چاروں وزرائے اعلیٰ کی ملاقات میں شیئر دینے کا فیصلہ ہوا تھا، انہوں نے اتفاق کیا تھا کہ وفاق کو پیسے دیں گے۔

طارق فضل چوہدری نے کہا کہ صوبے پاکستان کیلیے وفاق سے تعاون کر رہے ہیں، یہ نہیں ہو سکتا تین صوبے حصہ دیں اور ایک صوبہ حصہ نہ دے، صوبوں کے وفاق سے تعاون کو ایک ملاقات سے نہیں جوڑنا چاہیے، صوبے جو پیسے دیں گے وہ عوام کے جان و مال کے تحفظ پر لگیں گے۔

spot_imgspot_img