spot_img

ذات صلة

جمع

مارکیٹیں کتنے بجے بند ہوں گی؟

حکومت نے ایندھن کی بچت پالیسی کے تحت مزید...

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی پولیس اسٹیشن سے ٹکرا گئی

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی ڈومیل پولیس اسٹیشن...

بیرسٹر گوہر کے نام پر ہیکرز نے 5 لاکھ روپے لوٹ لیے

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے نام پر...

’موٹر سائیکل سواروں کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی‘

وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے...

لیجنڈری اداکار جہانگیر خان جو 3لاکھ روپے لےکر لاہور آئے اور انھیں سوکھی روٹی کھاکر بھوک مٹانا پڑی

پاکستان ٹیلی ویژن اور پشتو فلموں کے لیجنڈری اداکار جہانگیر خان اداکاری کے شوق میں 3لاکھ روپے لےکر لاہور آئے نگر انھیں سوکھی روٹی کھاکر بھوک مٹانا پڑی۔

نجی چینل کے شو میں بطور مہمان شریک ہونے والے پاکستان کے ورسٹائل اداکار جہانگیر خان جانی نے گھر سے بھاگ کر اداکاری میں اس مقام تک پہنچنے داستان سنائی، انھوں نے میزبان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اداکاری کرنے کےلیے گھر سے بھاگنا پڑا اور شہر بھی چھوڑنا پڑا،

جہانگیر خان نے بتایا کہ میں نے اپنے بچپن میں ایک فلم دیکھی تھی شاہد اور بابرا کی جو 1980 میں ریلیز ہوئی تھی، اسے دیکھنے کے بعد میں نے دوست کو کہا کہ مجھے بھی ایسا ہی اداکار بننا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پھر شوق کی خاطر مجبور ہو کر کم عمری میں ہی گھر والوں کو بتائے بغیر لاہور آگیا، میں نے انھیں اداکار بن کردکھایا، اداکار بننے کےلیے گھر سے 3 لاکھ روپے چوری کرکے لے گیا تھا۔

جہانگیر جانی نے کہا کہ میں اپنی والدہ کو بتاکر 3 لاکھ روپے لےگیا تھا لیکن والد کو اس بارے میں نہیں پتا تھا، ہم پٹھان ہیں بکسوں میں رکھتے ہیں پیسے میں نے وہ بکس ہی اٹھا لیا تھا۔

لاہور پہنچنے کے بعد کی داستان بتاتے ہوئے جہانگیر خان جانی نے کہا کہ میرے ایک دوست کے دوست نے پیسے دے کر پشتو فل میں ہیرو کا کریکٹر کیا تھا، میں اس دوست کے واقف کار کو پیسے دیے کہ فلم بناؤ اور مجھے ہیرو لو۔

میری عمر اس وقت 16سال تھی اور میری اپنی ہی فلم میں مجھے کسی نے کام نہیں دیا تھا، فلم بن گئی تھی اولاد کے نام سے مگر وہ میں نے مکمل نہیں کی تھی کیوں کہ میرا سارا پیسہ ختم ہوگیا تھا اور میں اسٹوڈیو سے نکل گیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ میں اس کے بعد لاہور نے نکلا وہ ایک الگ داستان ہے، فلم بنانے کے چکر میں پروڈیسر میری قمیض سے بھی پیسے نکال کر لے گیا تھا اور اس وقت میرے پاس ایک ملازم ہی بچا تھا۔

جہانگیر خان نے کہا کہ میں جس کوارٹر میں تھا میں نے غصے میں ملازم کو بھی نکال دیا اور میں وہاں اکیلا رہ گیا، میں دو دن بھوکا رہا اور بھوک سے میری حالت غیر ہوگئی۔

اس کمرے کے اوپر ایک سلپ پر نان روٹی کے موٹے کنارے کے بہت سے ٹکڑے پڑے ہوئے تھے، وہ میں نے پانی میں بھگوکر کھائے، اس کے بعد مجھے رکشے بھی دھونے پڑے۔

spot_imgspot_img