spot_img

ذات صلة

جمع

مارکیٹیں کتنے بجے بند ہوں گی؟

حکومت نے ایندھن کی بچت پالیسی کے تحت مزید...

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی پولیس اسٹیشن سے ٹکرا گئی

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی ڈومیل پولیس اسٹیشن...

بیرسٹر گوہر کے نام پر ہیکرز نے 5 لاکھ روپے لوٹ لیے

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے نام پر...

’موٹر سائیکل سواروں کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی‘

وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے...

لڑکی کا نکاح پر نکاح کرانے والے 12 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج

جیکب آباد : پولیس نے نکاح پر نکاح کرانے والے بارہ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ، مقدمے میں لڑکی کے والد،چار رشتے دار،نکاح خواں ،گواہ اور دلہا کو نامزد کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جیکب آباد مین تحصیل ٹھل کی اے سیکشن پولیس نے سندھ ہائی کورٹ لاڑکانہ بینچ کے حکم پر نکاح پر نکاح کرانے والے 12 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔

مقدمہ سابقہ شوہر نعیم احمد سرکی کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے، جس نے مؤقف اختیار کیا کہ اس نے ثناء سرکی سے 31 مئی 2025 کو حیدرآباد کی سیشن کورٹ میں پسند سے نکاح کیا تھا۔

مدعی نے بتایا کہ بیوی کو والدین کی ناراضی پر میکے میں رہنے کی اجازت دی تھی، تاہم بعد ازاں 10 جون 2025 کو رائس بلاول نوناری کی رہائش گاہ پر ثناء سرکی کا دوبارہ نکاح عزیز احمد سرکی سے کرا دیا گیا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 494 کے تحت درج کیا گیا ہے۔ مقدمے میں لڑکی کے والد اسعد اللہ سرکی، چچا محمد ابراہیم سرکی، عمران سرکی، عبید اللہ سرکی، رشتہ دار بدردین سرکی، سیف اللہ سرکی، نکاح خواں مولوی سید باسط شاہ، گواہان رائس بلاول نوناری اور حافظ علی، جبکہ دولہا عزیز احمد سرکی کو نامزد کیا گیا ہے۔

مدعی نے نکاح پر نکاح کے اس واقعے کو سندھ ہائی کورٹ لاڑکانہ بینچ میں چیلنج کیا تھا، جس کے حکم پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کیا۔

spot_imgspot_img