سعودی عرب میں وزارت خارجہ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی جانب سے برادر اسلامی ملک قطر کے خلاف دیے گئے جارحانہ بیانات کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔
سعودی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب برادر ملک قطر کے ان تمام اقدامات کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتا ہے جو وہ اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے اٹھا رہا ہے۔
بیان کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے حالیہ بیانات بین الاقوامی قوانین اور عالمی روایات کی مسلسل خلاف ورزیاں تشویش کا باعث ہیں۔
سعودی وزارت خارجہ نے عالمی برادری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ وہ اسرائیل کی ان تخریبی پالیسیوں کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کرے جو خطے میں امن و استحکام کے لیے خطرے کا باعث ہیں۔
دوسری جانب قطر نے اعلان کیا ہے کہ دوحا پر اسرائیلی حملے پر ردعمل صرف قطر کا نہیں پورے خطے کا ہو گا۔
قطری وزارت خارجہ کے مطابق اسرائیل کو ردعمل بین الاقوامی قانون کے دائرے میں دیا جائے گا، اسرائیل کے حملے کے برعکس ہمارا جواب قانونی ہو گا، علاقائی رہنما دوحہ اجلاس میں مشترکہ حکمت عملی طے کریں گے۔
قطر میں 15ستمبر کو ہونے والے عرب اسلامی سربراہی اجلاس کی تیاریاں جاری ہیں جب کہ 14 ستمبر کو وزرائے خارجہ اجلاس بھی ہو گا جس میں آئندہ لائحہ عمل اور حکمت عملی طے ہو گی۔
نیویارک کا میئر بنا تو نیتن یاہو کی گرفتاری کا حکم دوں گا، زہران ممدانی
قطری وزارت خارجہ نے بتایا کہ سربراہی اجلاس میں اسرائیلی حملے اور نتائج پر غور کیا جائیگا، خبرایجنسی کا کہنا ہے کہ دوحہ پر اسرائیلی حملے کے بعد قطر نیعالمی سطح پر سفارتی دباؤ بڑھایا ہے۔
دریں اثنا پاکستان نے دوحہ میں حماس پر ہونے والے اسرائیلی حملے کو قطر کی خودمختاری اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے برادر ملک کی قیادت اور عوام سے اظہار یکجہتی کیا ہے۔



