انقرہ (11 جولائی 2026): ترکیہ نے نیتن یاہو حکومت کو خطے اور اسرائیل کے لیے بوجھ اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے دیا۔
ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاقان فیدان نے جمعہ کو کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی پالیسیاں اور ان کی حکومت نہ صرف اسرائیل بلکہ پورے خطے اور عالمی سلامتی کے لیے بھی بوجھ بن چکی ہیں۔
ابوظبی سے شائع ہونے والے اخبار دی نیشنل کو انٹرویو دیتے ہوئے فیدان نے کہا ’’نیتن یاہو کی حکومت کی پالیسیاں صرف ہمارے لیے مسئلہ نہیں ہیں، بلکہ وہ اسرائیل، پورے خطے اور عالمی سلامتی کے لیے بھی بوجھ اور خطرہ ہیں۔‘‘ انھوں نے کہا کہ انقرہ اور تل ابیب کے درمیان بیان بازی کے کھلے تصادم میں تبدیل ہونے کا کوئی امکان نہیں۔
حاقان فیدان نے کہا ’’کھلے تصادم کی کوئی وجہ نہیں ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان امن اور دانائی کے حامل رہنما ہیں اور انھیں کسی بھی اشتعال انگیزی میں نہیں پھنسایا جا سکتا۔‘‘ فیدان نے کہا حماس، حزب اللہ اور ایران کے خلاف جنگ کے بعد اب نیتن یاہو کو ایک اور دشمن کی ضرورت ہے، نیتن یاہو اینڈ کمپنی اب ترکیہ کو اپنا دشمن بنانے کی کوشش میں ہے۔ اسرائیل میں انتخابات قریب آتے ہی نیتن یاہو اور ان کے ساتھیوں کو نئے دشمن کی ضرورت پڑتی ہے۔
’’ہفتے تک اعلان کر دو‘‘ امریکا کا ایران کو الٹی میٹم
ترک وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا سمیت یورپی رہنما اب اسرائیل سے پیدا ہونے والے خطرات کو تسلیم کرنا شروع ہو گئے ہیں، تاہم وہ اب تک اس مسئلے سے نمٹنے کا مؤثر طریقہ تلاش نہیں کر سکے۔
انھوں نے خبردار کیا کہ شام میں استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوششیں صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔ فیدان نے کہا خلیج میں جنگ کے باعث عالمی توجہ غزہ سے ہٹ گئی ہے، جب کہ فلسطینیوں تک مزید انسانی امداد پہنچانے کے لیے اسرائیل پر بین الاقوامی دباؤ بڑھانے کی ضرورت ہے۔
فیدان نے کہا کہ علاقائی تنازعات میں ثالثی کے حوالے سے ترکیہ ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ انھوں نے کہا ’’ہم سب کو جانتے ہیں اور ہر تنازع کی نوعیت سے واقف ہیں، اس لیے ہم بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے اور اسے روکنے میں کس طرح مدد کی جا سکتی ہے۔‘‘ انھوں نے کہا کہ دنیا کو ایسے نظام کی طرف واپس جانا ہوگا جہاں ہر ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا مکمل احترام کیا جائے۔
فیدان کے مطابق ایران طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ خطے کے مختلف ممالک میں اپنے اتحادی گروہوں کی حمایت اس کی پیشگی دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس طرح اسرائیل بھی اپنی سلامتی کے نام پر خطے کے مختلف علاقوں پر قبضہ کیے ہوئے ہے۔
انھوں نے کہا کہ اگر خطے میں ایسا نیا سیکیورٹی نظام قائم ہو جائے جو تمام ممالک کی سلامتی، سیاسی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی ضمانت دے، تو ایران سے بھی کہا جا سکتا ہے کہ اب ہر ملک اپنی حدود تک محدود رہے۔ ان کے بقول ایران اتنی سیاسی پختگی رکھتا ہے کہ ان حقائق کو سمجھ سکے۔
ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کے خیال میں ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی برقرار رہ سکتی ہے، اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ یہ جنگ بندی ختم ہو چکی ہے۔ انھوں نے کہا ’’میرا خیال ہے کہ آبنائے سے گزرنے کے طریقہ کار پر عمل درآمد کے حوالے سے دونوں جانب رابطے کی کمی اور غلط فہمی موجود تھی۔‘‘



