وزیرآباد(11 جولائی 2026): مدرسے میں 3 بچوں سے جنسی زیادتی کرنے والا جعلی عامل قاری موٹر سائیکل پر فرار ہوتے ہوئے ٹانگ تڑوا بیٹھا۔
پنجاب کے شہر وزیرآباد کے علاقے فتح پور چھٹہ میں قائم ایک مدرسے میں تین کمسن بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انتہائی گھناؤنا واقعہ سامنے آیا ہے۔ واقعے کے بعد فرار ہونے کی کوشش میں ملزم موٹر سائیکل درخت سے ٹکرا کر اپنی ٹانگ تڑوا بیٹھا، جسے پولیس نے زخمی حالت میں دھر لیا۔
فتح پور چھٹہ کے ایک مدرسے کے قاری عبداللہ نے 7 سے 15 سال کی عمر کے تین بچوں کو متعدد بار جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ ملزم نے بچوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے دھمکی دے رکھی تھی کہ اگر انہوں نے گھر والوں کو کچھ بتایا تو وہ انہیں رسیوں سے باندھ کر نہر میں پھینک دے گا۔
اس خوف کی وجہ سے بچے خاموش رہے، تاہم ایک دن مدرسے سے واپسی پر ایک بچے کے کپڑوں پر خون کے دھبے دیکھ کر جب والدین نے سختی سے بازپرس کی، تو شاہ میر نامی بچے نے سارا ماجرا اگل دیا۔ بچے نے انکشاف کیا کہ قاری عبداللہ اس کے علاوہ مزید دو بچوں کو بھی مستقل زیادتی کا نشانہ بناتا رہا ہے۔
بچوں کے والدین نے فوری طور پر متعلقہ پولیس سے رابطہ کیا، جس پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے ملزم کے خلاف زیر دفعہ 376 ت پ کے تحت مقدمہ درج کر لیا اور بچوں کا سول اسپتال وزیرآباد سے طبی معائنہ کروایا۔
مقدمہ درج ہونے کی بھنک لگتے ہی ملزم قاری عبداللہ موٹر سائیکل پر فرار ہو گیا، جس کی گرفتاری کے لیے پولیس نے مختلف مقامات پر چھاپے مارے۔
فرار کے دوران ملزم کی موٹر سائیکل تیز رفتاری کے باعث ایک درخت سے جا ٹکرائی، جس سے اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی اور وہ سڑک پر گر گیا۔ پولیس نے تعاقب کرتے ہوئے ملزم کو زخمی حالت میں گرفتار کر کے ہسپتال منتقل کر دیا۔
ذرائع کے مطابق، ملزم قاری عبداللہ نے مدرسے کی آڑ میں اپنا ایک آستانہ بھی بنا رکھا تھا جہاں وہ پیری مریدی کے نام پر معصوم شہریوں کو جعلی تعویذ گنڈے بھی دیا کرتا تھا۔
متاثرہ بچوں کے والدین نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور آئی جی پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزم کو عبرتناک سزا دی جائے، جبکہ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف مضبوط کیس تیار کر کے اسے قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔



