کراچی : کے ٹو ایئر ویز طیارہ حادثے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم بلیک باکس اور انجن نہ ملنے کے باعث اسلام آباد واپس روانہ ہوگئی۔
تفصیلات کے مطابق کراچی کے سمندر میں گر کر تباہ ہونے والے ‘کے ٹو ایئر ویز’ کے کارگو طیارے کے حادثے کے بعد امدادی کارروائیاں اور تحقیقات جاری ہے۔
حادثے کی تحقیقات کرنے والی ‘بیورو آف ایئرکرافٹ سیفٹی انویسٹی گیشن’ کی 11 رکنی ٹیم کراچی میں ابتدائی معائنے کے بعد واپس اسلام آباد روانہ ہو گئی کیونکہ بلیک باکس اور انجن کے بغیر تحقیقات کو آگے بڑھانا ناممکن ہو گیا ہے۔
پاک بحریہ ور پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کی جانب سے سمندر کی تہہ میں ایک بڑا سرچ آپریشن پوری قوت سے جاری ہے۔
آپریشن کا بنیادی ہدف طیارے کے بلیک باکس، انجن، اہم پرزوں (انجینئرز کے آلات) اور عملے کے پانچوں لاپتہ ارکان کی تلاش ہے، تاحال سمندر کے بے رحم موجوں سے کوئی بھی باڈی نہیں مل سکی ہے۔
ایئر کموڈور احسن نعمان کی سربراہی میں بیورو آف سیفٹی انویسٹی گیشن کی 11 رکنی ٹیم نے دو روز تک کراچی میں تفصیلی کام کیا، ٹیم نے سمندر سے اب تک برآمد ہونے والے طیارے کے ونگز (پروں) اور پچھلے حصے کے ملبے کا تفصیلی معائنہ کیا۔
طیارے کے مین ٹیننس ریکارڈ اور فلائٹ کی دیگر اہم دستاویزات کو بھی قبضے میں لے کر جانچ پڑتال کی گئی۔
روانگی سے قبل تحقیقاتی ٹیم نے واضح کیا کہ اب تک ملنے والا ملبہ حادثے کی اصل وجہ جاننے کے لیے سراسر ناکافی ہے. جب تک طیارے کا انجن اور فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر (بلیک باکس) برآمد نہیں ہو جاتے، حتمی فنی تحقیقات کا آگے بڑھنا ممکن نہیں۔ بلیک باکس ملتے ہی یہ ٹیم دوبارہ کراچی پہنچے گی۔



