کراچی (8 جولائی 2026): شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو طیارہ لاپتا ہوگیا جس کی تلاش شروع کر دی گئی۔
ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) نے بتایا کہ شارجہ سے کراچی آنے والے نجی کارگو طیارے سے تقریباً 155 ناٹیکل میل مغرب میں رابطہ منقطع ہوا، جس کے بعد سمندر میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا، کارگو طیارے میں عملے کے 5 افراد سوار تھے۔
پی اے اے کے مطابق کےٹوایئرویز کا بوئنگ 737 کارگو طیارے میں نیویگیشنل سسٹم میں خرابی ہوئی، کراچی ایریا کنٹرول سینٹر نے اس کو فوری رہنمائی فراہم کی، جس کے چند منٹ بعد طیارہ تیزی سے نیچے آنا شروع ہوگیا، اس نے اچانک سمت تبدیل کی اور پھر رابطہ منقطع ہوگیا، ترجمان نے مزید کہا کہ واقعے کے بعد ریسکیو کوآرڈینیشن سینٹر فعال کر دیا گیا۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کا کہنا ہے کہ حادثے کا شکار کارگو طیارہ پاکستانی وقت کے مطابق 9بج کر 21 منٹ پر ریڈار سے غائب ہو
اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک بحریہ کا جنگی جہاز پی این ایس ذوالفقار متاثرہ علاقے کی جانب روانہ کردیا گیا، پاک فضائیہ کا ساب طیارہ بھی بھولاری سے سرچ آپریشن کیلئے متحرک ہے۔
ذرائع کے مطابق پاک بحریہ کا اے ٹی آر طیارہ بھی تربت سے پرواز کرکے تلاش کی کارروائی میں شامل ہوگیا، پی این ایس سی کے تجارتی جہاز لاہور کو بھی سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کیلئے تعینات کردیا گیا۔
حادثے کا شکار طیارہ کراچی سے 300 کلومیٹر دور اورماڑہ کے قریب سمندر میں جاگرا جس کی تلاش کیلئے سمندر میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
حادثے کاے شکار طیارہ کیپٹن رضوان ادریس اور فرسٹ آفیسر فیصل محمود اڑا رہے تھے، طیارے کے دیگر عملے میں انجینئر محمد حامد ،عارف صدیقی، لوڈ ماسٹر توفیق خان شامل ہیں۔
پی اے اے حکام کے مطابق مذکورہ طیارے کو فنی خرابی کے باعث مکینیکل ورک کے لیے 28 جون کو کراچی سے شارجہ روانہ کیا گیا تھا، طیارہ شارجہ سے فیری پرواز کے طور پر بغیر کارگو واپس آ رہا تھا کہ کنٹرول ٹاور سے اس کا رابطہ اچانک منقطع ہوگیا۔



