کراچی (28 جون 2026): کراچی میں رینجرز کیمپ پر حملے میں ملوث زخمی دہشتگرد عثمان نے ہوشرہا انکشافات کرتے ہوئے افغانستان سے تربیت لینے کا اعتراف کر لیا۔
رینجرز کیمپ پر بزدلانہ حملے میں ملوث دہشتگرد تنظیم جماعت الاحرار کے پس پردہ افغان طالبان رجیم کے شواہد سامنے آگئے۔ بزدلانہ حملے میں ملوث زخمی دہشتگرد عثمان نے انکشاف کیا کہ میرا نام عثمان علی ہے اور میں افغانستان کے علاقے جلال آباد سے آیا ہوں، میرے ساتھ 3 اور ساتھی بھی تھے جن کا نام عبدالہادی، جانان اور عمر فاروق تھا، عبدالہادی مارا جا چکا ہے، جانان نے رینجرز کیمپ پر بم پھینکا تھا۔
دہشتگرد عثمان نے انکشاف کیا کہ ہم لوگ سات دن قبل عبدالہادی کے پاس پاکستان آئے تھے جو باجوڑ کا رہائشی تھا، ہمیں زیر تعمیر بلڈنگ میں رکھا گیا تھا، حملے میں استعمال ہونے والا اسلحہ عبدالہادی وزیرستان سے لایا تھا، دوسری طرف جانے کیلیے جب میں بھاگ رہا تھا تو مجھے گولی لگ گئی اور میں وہیں گر گیا، میرا تعلق جماعت الاحرار سے ہے جس کے افغانستان میں کمانڈر کا نام احرار مولوی صاحب ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں دہشتگرد حملے میں شہید ہونے والے رینجرز کے جوانوں کی نماز جنازہ ادا
’ہم سب کو افغانستان میں تربیت دی گئی تھی مجھے صرف جیکٹ دی گئی تھی خودکش ہم خود تیار کر لیتے ہیں۔ ہم سب خودکش جیکٹ تیار کر لیتے ہیں ہمیں افغانستان میں پہلے سے تربیت دی گئی تھی۔ افغانستان میں خودکش جیکٹ اور دیگر ٹریننگ عمر قاری نے دی تھی۔ کراچی آنے سے پہلے ہمارے لیے افغانستان سے سب انتظامات ہوگئے تھے۔ عبدالہادی یہاں سب جانتا تھا، پہلے بھی یہاں آیا تھا۔‘
اس نے بتایا کہ پہلے ہمیں فوج اور رینجرز میں فرق معلوم نہیں تھا، پھر یہاں آ کر رینجرز سے واقف ہوئے اور ہمیں یہ بتایا گیا کہ یہ سب کافر ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق افغان طالبان رجیم افغانستان کی سرزمین کو دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہ بنا کر پاکستان کے خلاف استعمال کر رہی ہے، اس سے قبل بھی پاکستان متعدد بار افغان طالبان رجیم کو سرحد پار دہشتگردی کے ناقابل تردید شواہد پیش کر چکا ہے۔



