spot_img

ذات صلة

جمع

کراچی میں جھلسا دینے والی گرمی کی اصل وجہ کیا ہے؟ حقیقت سامنے آگئی

کراچی : شہر قائد کا “کنکریٹ کے جنگل” میں تبدیل ہونا ایک سنگین حقیقت ہے جس کے تباہ کن اثرات میں سب سے نمایاں شدید گرمی اور درجہ حرارت کا حد سے زیادہ بڑھنا ہے۔،

اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں سابق ایڈمنسٹریٹر کراچی فہیم الزمان نے کراچی میں گرمی کی بنیادی وجوہات کی جانب ناظرین کی توجہ مبذول کرائی۔

ان کا کہنا تھا کہ تجاوزات، غیر قانونی تعمیرات بلند و بالا عمارتیں، سبزہ زاروں کی کمی، آلودگی اور بے ہنگم شہری پھیلاؤ کے باعث کراچی میں درجہ حرارت حد سے کہیں زیادہ لگنے لگا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ شہر تیزی سے “اربن ہیٹ آئی لینڈ” میں تبدیل ہو رہا ہے، جہاں کنکریٹ کی عمارتیں اور سڑکیں دن بھر حرارت جذب کرکے رات کے وقت خارج کرتی ہیں، جس سے درجہ حرارت معمول سے کہیں زیادہ محسوس ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں درجہ حرارت اگر 37 یا 40 ڈگری سینٹی گریڈ بھی ہو تو نمی (ہیومیڈیٹی) اور شہری ساخت کی وجہ سے یہ 45 سے 48 ڈگری سینٹی گریڈ تک محسوس ہوسکتا ہے۔

سابق ایڈمنسٹریٹر کراچی نے کہا کہ گزشتہ 25 سال کے دوران کراچی کی آبادی تقریباً ایک کروڑ سے بڑھ کر ڈھائی سے تین کروڑ تک پہنچ چکی ہے، جس کے نتیجے میں شہر بے ہنگم انداز میں پھیلا اور سبزہ زاروں کی جگہ کنکریٹ اور اسفالٹ نے لے لی۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں کراچی میں پارکس، کھیل کے میدان اور درختوں کی کثرت تھی جبکہ آج بیشتر علاقوں میں درخت ڈھونڈنا مشکل ہو گیا ہے، جامن، نیم، برگد، امرود اور گل موہر جیسے درخت جو کبھی شہر کی شناخت تھے، اب ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔

فہیم الزمان نے بتایا کہ دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات بڑھ رہے ہیں اور باشعور قومیں ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پیشگی منصوبہ بندی کرتی ہیں، جبکہ کراچی میں شہری منصوبہ بندی اور ماحولیاتی تحفظ کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

سابق ایڈمنسٹریٹر کراچی نے کہا کہ شہر کا ماسٹر پلان شہریوں اور انتظامیہ کے درمیان ایک عمرانی معاہدے کی حیثیت رکھتا ہے، لیکن بدقسمتی سے کراچی میں مختلف ادوار میں اس پر مستقل عمل درآمد نہیں کیا گیا، جس کے نتیجے میں شہر بے ہنگم تعمیرات اور ماحولیاتی مسائل کا شکار ہوگیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر شجرکاری، گرین بیلٹس، بہتر شہری منصوبہ بندی اور ماحول دوست پالیسیوں پر فوری توجہ نہ دی گئی تو کراچی میں شدید گرمی مستقبل میں ایک مستقل خطرے کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

انہوں نے اس مسئلے کے حل کے لیے بڑے پیمانے پر درخت لگانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ گرمی سے بچنے کا سب سے مؤثر حل صرف اور صرف زیادہ سے زیادہ شجرکاری ہے۔

spot_imgspot_img