اسلام آباد (04 جون 2026): پاکستان پیپلز پارٹی اور حکومت کے مابین بجٹ پر ڈیڈ لاک کی اندرونی کہانی سامنے آئی ہے، چیئرمین بلاول بھٹو نے بجٹ پر حکومت سے خود مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع پیپلز پارٹی کے مطابق بلاول بھٹو نے پارٹی کی کمیٹی کو بجٹ پر حتمی فیصلہ سے روک دیا ہے، وہ گلگت بلتستان سے واپسی پر حکومت سے بات چیت کریں گے، پارٹی نے حکومت کو بلاول کے فیصلے سے آگاہ کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو کی وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کا امکان ہے، وہ حکومت کی بجٹ ٹیم سے ملاقاتیں کریں گے، جب کہ وزیر اعلیٰ سندھ اور بجٹ کمیٹی مذاکرات میں بلاول بھٹو کی معاونت کرے گی۔
بجٹ : عوام نئی ملازمتوں معاشی ترقی اور خوشحالی کو بھول جائیں
بلاول بھٹو 6 جون کو گلگت سے اسلام آباد واپس پہنچیں گے، پیپلز پارٹی کے مطالبے پر حکومت نے بجٹ پیش کرنے کی تاریخ آگے بڑھائی، پی پی چیئرمین نے حکومت کو بجٹ ملتوی کرنے کا پیغام بھجوایا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو جی بی الیکشن کے دوران بجٹ پیش کرنے پر ناراض ہیں، پی پی کو ٹیکسز، پی ایس ڈی پی، پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر تحفظات ہیں، اور وہ مزید ٹیکسز کے نفاذ، اور پٹرولیم لیوی اضافے کے خلاف ہے۔
پیپلز پارٹی کو پی ایس ڈی پی میں صوبائی شیئرز پر بھی تحفظات ہیں، حکومت پی ایس ڈی پی، پٹرولیم لیوی، اور ٹیکسز پر پی پی کو مطمئن نہیں کر سکی ہے۔



