spot_img

ذات صلة

جمع

امریکی فوج نے ایران پر حملے شروع کردیے

واشنگٹن (10 جون 2026) : آبنائے ہرمز کے قریب...

پاپا رازی کی کیا حقیقت ہے؟ حیران کن کہانی سامنے آگئی

پاپا رازی (Paparazzi)کسی ایک شخص کو نہیں بلکہ ان...

بے رحم شخص کا اونٹنی پر تشدد، دونوں آنکھیں نکال لیں

تھرپارکر : اندرون سندھ کے شہر تھرپارکر میں اونٹنی...

جھانوی کپور نے ’پیڈی‘ کے لیے کتنا معاوضہ لیا؟

بالی ووڈ اداکارہ جھانوی کپور کی فلم ’پیڈی‘ میں...

بجٹ : عوام نئی ملازمتوں معاشی ترقی اور خوشحالی کو بھول جائیں

اسلام آباد : وفاقی حکومت آئندہ ہفتے نیا بجٹ 2026-27 پیش کرنے جا رہی ہے، لیکن ملکی معیشت اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہے بجٹ میں معاشی ترقی، ملازمتوں اور خوشحالی کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام آن مائی راڈار میں سینئر تجزیہ نگار و میزبان کامران خان نے آنے والے مالی سا ل کے بجٹ سے متعلق تفصیلی رپورٹ مرتب کی۔

انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پیش کیے جانے والے بجٹ میں ایک طرف حکومت چاہتی ہے کہ معیشت مستحکم رہے اور ملک دوبارہ مالی بحران میں نہ جائے جبکہ دوسری جانب زمینی حقائق یہ ہیں کہ عوام مہنگائی، بے روزگاری اور کاروباری مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

کامران خان کے مطابق گزشتہ چند سالوں میں معیشت کو سنبھالنے کی کوشش تو کی گئی، لیکن اس دوران ترقی کی رفتار بہت سست ہوگئی۔ ملک میں سرمایہ کاری کم ہوئی، کاروبار متاثر ہوئے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بھی کم ہوگئے۔

اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 10 سال پہلے پاکستان پر قرضہ 19 کھرب روپے تھا، جو اب بڑھ کر تقریباً 80 کھرب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ حکومت کی کمائی کا تقریباً 60 فیصد حصہ صرف قرضوں اور سود کی ادائیگی میں خرچ ہو جاتا ہے۔

اس وجہ سے حکومت کے پاس ترقیاتی منصوبوں، سڑکوں، تعلیم، صحت اور دیگر عوامی منصوبوں کے لیے فنڈ کم بچتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وفاقی ترقیاتی بجٹ کئی برسوں سے تقریباً ایک ہی سطح پر کھڑا ہے۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بھی اعتراف کیا ہے کہ قرضوں کی ادائیگی کے بڑھتے ہوئے بوجھ کے باعث وفاقی ترقیاتی پروگرام گزشتہ آٹھ برسوں سے تقریباً ایک کھرب روپے کے قریب منجمد ہے، جبکہ اسی عرصے میں صوبائی ترقیاتی بجٹ تین گنا تک بڑھ چکے ہیں۔

دوسری جانب غیر ملکی سرمایہ کار بھی پاکستان میں سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں، حالیہ سروے کے مطابق زیادہ تر کاروباری ادارے اپنی نئی سرمایہ کاری روک رہے ہیں جبکہ رواں مالی سال بیرونی سرمایہ کاری میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا ٹیکس نظام بھی کمزور ہے، اگرچہ ٹیکس وصولیاں بڑھی ہیں لیکن اب بھی بہت کم لوگ ٹیکس دیتے ہیں زیادہ تر بوجھ تنخواہ دار طبقے اور رجسٹرڈ کاروبار پر ڈالا جا رہا ہے جبکہ معیشت کا بڑا حصہ اب بھی ٹیکس نیٹ سے باہر ہے۔

انہوں نے کہا کہ آنے والا بجٹ حکومت کے لیے بڑا امتحان ہوگا، عوام امید کر رہے ہیں کہ حکومت ایسا بجٹ پیش کرے جو صرف نئے ٹیکس لگانے کے بجائے روزگار، سرمایہ کاری اور معیشت کی بہتری پر توجہ دے۔

spot_imgspot_img