کراچی : ہائی پروفائل کیس میں گرفتار خاتون ڈرگ ڈیلر انمول پنکی کا منشیات کا نیٹ ورک انتہائی منظم انداز میں کام کر رہا تھا، جو خاص طور پر شہر کے پوش علاقوں میں مہنگی منشیات، خصوصاً کوکین، کی سپلائی میں ملوث تھا۔
ذرائع کے مطابق انمول پنکی کا مرکزی ہدف پوش علاقوں میں ہونے والی نجی پارٹیاں تھیں، جبکہ اس کا گینگ مختلف تعلیمی اداروں میں بھی منشیات کی سپلائی میں سرگرم رہا۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اس نیٹ ورک میں بعض پولیس اہلکار، خواتین اور مسافر کوچوں کے ڈرائیور بھی شامل تھے، جو منشیات کی ترسیل میں کردار ادا کرتے تھے۔ ملزمہ کا دعویٰ تھا کہ وہ اعلیٰ معیار کی کوکین تیار کرنے کی مہارت رکھتی ہے اور محض سپلائر نہیں بلکہ خود “کوکین میکر” بھی تھی۔
رپورٹس کے مطابق ملزمہ انمول پنکی نے پنجاب پولیس کے ایک سابق انسپکٹر سے دوسری شادی کر رکھی تھی، وہ ایک کرائے کے مکان میں قائم خفیہ لیبارٹری میں منشیات تیار کرتی تھی، جہاں جدید کیمیکلز اور آلات کی مدد سے کوکین کی مقدار بڑھائی جاتی تھی۔
رپورٹ کے مطابق ملزمہ نے لاہور میں ایک لیبارٹری قائم کر رکھی تھی جہاں لیٹوکین، کیٹا مائین، میتھ اور ایفیڈرین جیسے کیمیکلز کی مدد سے 300 گرام کوکین کی مقدار بڑھا کر تقریباً ایک کلوگرام تک تیار کی جاتی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ انمول پنکی منشیات کی ایک نئی اور مہنگی قسم تیار کرنے پر بھی کام کر رہی تھی، اور اگر اسے گرفتار نہ کیا جاتا تو آئندہ چند ماہ میں وہ نئی قسم کی کوکین متعارف کرا سکتی تھی۔
گرفتاری کے وقت ملزمہ کے قبضے سے برآمد ہونے والی کوکین کی مالیت مقامی مارکیٹ میں 4 سے 5 کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے، جبکہ عالمی مارکیٹ میں اس کی قیمت تقریباً 20 کروڑ روپے کے قریب بتائی گئی ہے۔



