spot_img

ذات صلة

جمع

وزارت خزانہ کی بیرونی ادائیگیوں سے متعلق وضاحت آگئی

اسلام آباد: وزارت خزانہ کی بیرونی ادائیگیوں سے متعلق...

وزیراعظم کا پیٹرول پر 80 روپے کمی کا اعلان

وزیراعظم شہبازشریف نے عوام کے لیے پیٹرول ریلیف کے...

مچھ جیل میں قید قبائلی رہنما پر مبینہ خنجر سے حملہ

کوئٹہ (3 اپریل 2026): مچھ جیل میں قید قبائلی...

پیٹرول مہنگا ہونے سے کون فائدے میں اور کس کا نقصان؟ مفتاح اسماعیل کا اہم بیان

کراچی (4 اپریل 2026): سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پیٹرول مہنگا کرنے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور یہ بھی بتایا کہ اس سے کون قربانی دے گا اور کس کا فائدہ ہوگا۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’دی رپورٹرز‘ میں مفتاح اسماعیل نے کہا کہ سب نے دیکھا کہ پہلے قربانی وزیر اعظم اور ان کی حکومت نے دی، مارچ میں شہباز شریف نے دو بار قوم سے خطاب کیا، پچھلے ہفتے تک بتایا گیا کہ سارا بوجھ حکومت خود برداشت کر رہی ہے لیکن معلوم نہیں ایک ہفتے میں کیا ہوا جو پیٹرول کی قیمت بڑھا دی گئی۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ 458 روپے فی لیٹر پیٹرول پر 187 روپے ٹیکس کی مد میں لیا جا رہا ہے، پہلے بھی کہا تھا کہ حکومت کو مہنگا پیٹرول خرید کر سستا نہیں بیچنا چاہیے تھا، پیٹرول کی قیمت 55 روپے بڑھانے پر کہا تھا کہ آپ ٹیکس بڑھاتے پیٹرولیم کمپنیز کو نہیں دینا تھا۔

سابق وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ ڈیزل پر اب بھی 38 روپے کے قریب ٹیکس ہے، حکومت کو ڈیوٹی رکھنی تھی تو پیٹرول پر ٹیکس 40 روپے بڑھانا تھا لیکن 55 روپے بڑھا دیا، حکومت نے چوری چھپے ایک اور جھٹکا عوام کو دے دیا، یہ موقع نہیں چھوڑتے، اب 330 کروڑ روپے ایک ہفتے میں حکومت کو ٹیکس مل جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ایس ڈی پی میں ہمیشہ بجٹ زیادہ رکھا جاتا ہے جو ہر سال کے آخر میں ضرورت ہو تو نکالا جاتا ہے، 10 سال سے پی ایس ڈی پی سے پیسہ نکالا جا رہا ہے 100 ارب روپے نکالے تو یہ کارنامہ نہیں، حکومت کو چاہیے تھا کہ 500 ارب روپے اپنے اور 1500 ارب صوبوں کا پی ایس ڈی پی کاٹتے۔

’حکومت پیٹرول پمپس کو 8 روپے 64 پیسے کا مارجن دے رہی ہے دنیا میں ایسا نہیں ہوتا۔ پوری دنیا میں پیٹرول پر 8 روپے مارجن نہیں بلکہ ساتھ موجود دکان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ آئی ایف ای ایم مد میں 7 روپے ٹیکس کا مقصد ہے کہ پورے ملک میں پیٹرول ایک قیمت پر ملے۔‘

spot_imgspot_img