spot_img

ذات صلة

جمع

مارکیٹیں کتنے بجے بند ہوں گی؟

حکومت نے ایندھن کی بچت پالیسی کے تحت مزید...

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی پولیس اسٹیشن سے ٹکرا گئی

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی ڈومیل پولیس اسٹیشن...

بیرسٹر گوہر کے نام پر ہیکرز نے 5 لاکھ روپے لوٹ لیے

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے نام پر...

’موٹر سائیکل سواروں کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی‘

وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے...

ایران کے تباہ کن میزائل جو امریکا اور اسرائیل کیلیے درد سر بن گئے

تہران (8 مارچ 2026):28 فروری 2026 کو اسرائیل اور امریکا نے ایران کے متعدد شہروں، پر بھرپور میزائل حملے  کیے۔

ان فضائی حملوں میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، اسرائیل نے اس کارروائی کو “آپریشن روئرنگ لائن” جبکہ امریکا نے “آپریشن ایپک فیوری” کا نام دیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کارروائی کو ایران کے میزائل اور جوہری پروگرام کو کمزور کرنے کی کوشش قرار دیا گیا، جس کے جواب میں ایران نے فوری ردعمل دیتے ہوئے اسرائیل کی جانب بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کی بڑی تعداد فائر کی۔

اطلاعات کے مطابق اس دوران سینکڑوں میزائل اور ڈرون داغے گئے، جن میں سے بعض ڈرون اور میزائلوں نے خطے میں موجود امریکی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا۔

اسرائیل کے شمالی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ ملک بھر میں فضائی خطرے کے سائرن بج اٹھے، اس دوران اسرائیل دفاعی نظام آئرن ڈوم نے آنے والے حملوں کو کافی حد تک روکنے کی کوشش بھی کی۔

مذکورہ کشیدہ صورتحال ایران کے وسیع بیلسٹک میزائل ذخیرے سے متعلق تجزیہ کاروں کو بھی سوچنے پر مجبور کرتی ہے، جو حالیہ جنگی جھڑپوں کے باوجود مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑا ذخیرہ سمجھا جاتا ہے۔

ایران طویل عرصے سے اپنے میزائلوں کی زیادہ سے زیادہ حد تقریباً 2ہزار کلومیٹر تک رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جو اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی تنصیبات تک پہنچنے کے لیے کافی سمجھی جاتی ہے، تہران کا مؤقف ہے کہ اس کا بین البراعظمی میزائل بنانے کا کوئی ارادہ نہیں۔

سال 2026کے آغاز تک اندازوں کے مطابق ایران کے میزائل ذخیرے کی تعداد تقریباً 2500 سے کم ہوکر 1ہزار سے 1200 تک رہ گئی ہے، جبکہ قابل استعمال موبائل لانچرز کی تعداد تقریباً 100 کے قریب بتائی جاتی ہے۔

ایران کا میزائل پروگرام

ایران کے بیلسٹک میزائل اس کی دفاعی حکمت عملی کا بنیادی ستون سمجھے جاتے ہیں۔ اس پروگرام میں مختصر فاصلے، درمیانے فاصلے اور ہائپرسونک میزائل شامل ہیں۔

ان میں سے بہت سے میزائل زیر زمین بنائے گئے محفوظ مقامات، جنہیں “میزائل سٹیز” کہا جاتا ہے، میں رکھے جاتے ہیں۔

فروری 2026 میں ہونے والی جوابی کارروائی کے دوران ایران نے سیجل اور فتاح جیسے جدید میزائل استعمال کیے تاکہ اسرائیلی دفاعی نظام کو دباؤ میں لایا جاسکے۔

Iran's Top Missiles

ایران کے اہم میزائل کون سے ہیں؟

سجیل (Sejjil)

سجیل ایران کے جدید ترین سالڈ فیول درمیانے فاصلے کے بیلسٹک میزائلوں میں شمار ہوتا ہے۔ جس کی رفتار تقریباً 17 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ اور ڈھائی ہزار کلومیٹر تک اپنے ہدف کو باآسانی نشانہ بنا سکتا ہے۔

سالڈ فیول ہونے کی وجہ سے اسے کم وقت میں لانچ کیا جا سکتا ہے، جس کے باعث اس کی بروقت شناخت اور روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق سیجل ٹو کو 2026 کی جھڑپوں میں پہلی بار جنگی کارروائی میں استعمال کیا گیا ہے۔

خرم شہر-4 (Khorramshahr-4)

خرم شہرفور ایران کے طاقتور میزائلوں میں شامل ہے جو دو ہزار کلومیٹر تک اپنے ہدف کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس میں 15سو کلو گرام وار ہیڈ لیجایا جاسکتا ہے۔

ایران کا یہ میزائل بڑے پیمانے پر حملوں کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اگرچہ یہ مائع ایندھن استعمال کرتا ہے جس کی تیاری میں زیادہ وقت درکار ہوتا ہے، تاہم اس کی تباہ کن صلاحیت بہت زیادہ ہے۔

فتاح (Fattah)

فتاح ایران کا پہلا ہائپرسونک میزائل قرار دیا جاتا ہے جو 14 سو کلومیٹر تک اپنے ہدف کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق اس کی انتہائی رفتار اور راستہ بدلنے کی صلاحیت اسے جدید فضائی دفاعی نظام کے لیے روکنا مشکل بنا دیتی ہے۔پہلے ہائپر سونک میزائل فتاح کو ایران کی عسکری ٹیکنالوجی میں بڑی پیش رفت تصور کیا جاتا ہے۔

شہاب تھری اور اس کی اقسام

شہاب تھری ایران کے درمیانے فاصلے کے میزائل پروگرام کا بنیادی حصہ ہے جو 800 سے 1300 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے، جبکہ اس کی جدید اقسام میں عماد 1700 کلومیٹر اور غدر 2ہزار کلومیٹر شامل ہیں۔،

عماد میزائل کو نسبتاً زیادہ صلاحیت حاصل ہے اور اس کی ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت تقریباً 500 میٹر تک بتائی جاتی ہے۔

ایران کے دیگر نمایاں میزائلوں میں خیبر تقریباً 2000 کلومیٹر۔ حاج قاسم تقریباً 1400 کلومیٹر اور ذوالفقار تقریباً 700 کلومیٹر حدِ مار والے میزائل شامل ہیں۔ یہ میزائل ایران کو مختلف فاصلوں پر اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔

اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیں

فروری 2026 کی حالیہ کشیدگی کے بعد ایران کے میزائل ذخائر اور لانچنگ تنصیبات کو نقصان پہنچائے جانے کی اطلاعات ہیں، تاہم ایران کی جانب سے فوری جوابی حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس کی میزائل صلاحیت اب بھی خطے میں ایک اہم فوجی عنصر ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایران مستقبل میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل تیار کر سکتا ہے، جبکہ تہران کا مؤقف ہے کہ اس کا میزائل پروگرام مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے۔

ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث ایران کے میزائل پروگرام اور اس کے اثرات آنے والے وقت میں خطے کی سیاسی اور دفاعی حکمت عملی پر گہرے اثرات مرتب کرتے رہیں گے۔

spot_imgspot_img