شکرگڑھ: 2 ہزار بھارتی سکھ یاتری واہگہ کے راستے کرتارپور پہنچ گئے، متروکہ وقف املاک بورڈ اور ضلعی افسران نے استقبال کیا۔
تفصیلات کے مطابق اپنے مذہبی مقدس مقامات کی زیارت اور عبادت کےلیے دو ہزار بھارتی سکھ یاتری واہگہ بارڈر کے راستے کرتارپور پہنچ گئے ہیں، متروکہ وقف املاک بورڈ اور ضلعی افسران نے انھیں خوش آمدید کہا، سکھوں نے پاکستانیوں کی گرمجوشی پر نہایت خوشی کا اظہار کیا۔
جتھہ دارسردار نے پاکستان میں ملنے والی بےپناہ محبت کا برملا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا گھوم چکے ہیں مگر پاکستان جیسا پیار کہیں نہیں ملا۔
سکھ یاتری نے پاکستان سے انتہائی لگاؤ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے لگتا ہے جیسے اپنے ننھیال آئے ہیں، خدا کرے بھائی چارہ ہمیشہ قائم رہے۔
یہ بھی پڑھیں: مودی نے سکھ یاتریوں کو بابا گرونانک کی برسی پر پاکستان آنے سے روک دیا
اس سے قبل پاکستان نے ہندو برادری کے افراد کو داخلے سے روکنے کے الزامات مسترد کردیے تھے اور ان الزامات کو بےبنیاد اور گمراہ کن قرار دیا تھا۔
ترجمان دفترخارجہ کا کہنا تھا کہ باباگرونانک کی سالگرہ کی تقریبات کیلئے 2400 سے زائد ویزے جاری کیے گئے، معاملہ مکمل طور پر انتظامی نوعیت کا تھا، پاکستانی ہائی کمیشن نئی دہلی کی جانب سے ویزے جاری کیے گئے۔
دفترخارجہ نے جاری بیان میں کہا کہ 4 نومبر کو 1932 یاتری اٹاری واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان میں داخل ہوئے۔
بھارتی حکام نے تقریباً 300 ویزا ہولڈرز کو سرحد پار کرنے سے روکا، پاکستانی امیگریشن کا عمل مکمل طور پر منظم، شفاف اور بلارکاوٹ رہا، چند افراد کے کاغذات نامکمل تھے جنھیں واپس جانے کا کہا گیا۔



